بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، چناب سے بڑا سیلابی ریلا جنوبی پنجاب کی طرف بڑھنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، چناب سے بڑا سیلابی ریلا جنوبی پنجاب کی طرف بڑھنے لگا WhatsAppFacebookTwitter 0 2 September, 2025 سب نیوز
لاہور:(آئی پی ایس)
پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے جبکہ بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا ہے جس کے باعث ہریکے اور فیروز پور پر اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔
بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان سے رابطہ کرتے ہوئے وزارت آبی وسائل کو آگاہ کیا، بھارت نے سیلابی ریلے سے آج صبح 8 بجے آگاہ کیا۔
گزشتہ روز بھی بھارت نے دریائے ستلج میں پانی کا بڑا ریلا چھوڑا تھا۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج سے ملحقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی۔ ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک اور سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 24 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا جنوبی پنجاب کی طرف بڑھ رہا ہے۔
مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 96 ہزار کیوسک اور خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 20 ہزار کیوسک ہے۔ قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے۔
ہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 16 ہزار کیوسک ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
دریائے راوی جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 54 ہزار کیوسک اور شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 60 ہزار کیوسک ہے۔
بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 37 ہزار کیوسک اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 7 ہزار کیوسک ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کا کہنا ہے کہ 5 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے۔
ریلیف کمشنر کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام متعلقہ محکمے الرٹ ہیں، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کئ لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشدید زخمیوں کو بغیر ویزا پاکستان منتقل کیا جائے، خیبر پختونخوا اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور شدید زخمیوں کو بغیر ویزا پاکستان منتقل کیا جائے، خیبر پختونخوا اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور بلوچستان اور کے پی دہشتگرد حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے ثبوت ہیں: وزیراعظم نے معاملہ ایس سی او میں اٹھادیا پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، میجر سمیت 5 جوان شہید، آئی ایس پی آر پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، ایس سی او کانفرنس میں جعفر ایکسپریس اور خضدار حملوں کی مذمت احتساب نہ ہوا تو بارش کے بعد تباہی کا تماشہ ہر سال ہوگا،خواجہ آصف پاکستانی اور چینی سرمایہ کار ملکر نئی راہیں کھول سکتے ہیں، وزیر خزانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارت نے دریائے ستلج میں پنجاب کی
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت