سندھ میں سیلاب کب داخل ہوگا، حکومت کی تیاریاں کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اس وقت سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے اور امکان ہے کہ 4 سے 5 ستمبر کو یہ سندھ میں داخل ہو جائے گا۔ اتھارٹی کے مطابق سیلاب کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور جہاں جہاں سے یہ گزرے وہاں تمام احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ، 9 اضلاع میں ہائی الرٹ
صوبہ سندھ کے زیادہ مقامات میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے تاہم جیکب آباد، کشمور، گھوٹکی، خیرپور، کمبر شہداد کوٹ، سانگھڑ، عمر کوٹ، ٹھٹھہ اور تھرپارکر میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ اس وقت گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجز پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے دریائے سندھ پر موجود گڈو اور سکھر بیراج سے 4 سے 5 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب گزرے گا صوبے میں تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق وہ پی ٹی اے سے رابطہ میں ہے جو موبائل فون پر پیغامات دے کر شہریوں کو آگاہ رکھی گی، مساجد میں اعلانات کیے جائیں گے اور بندوں کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہے گی اور جہاں ضروری سمجھا وہاں سے آبادی کو کیمپس میں منتقل کیا جائے گا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں مٹیاری میں 5،800 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس وقت سندھ میں 140 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، ٹنڈو محمد خان میں ایک، شہید بے نظیر آباد میں 3، نوشہروفیروز میں 124 اور خیرپور 12 کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں 32 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ بات کی جائے مٹیاری کی تو یہاں 16، گھوٹکی میں 4 اور خیرپور میں 12 کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ کے ٹنڈو محمد خان، مٹیاری اور نوشہروفیروز سے 9921 افراد کو اور 35 ہزار جانوروں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔
ریلیف کا سامانریلف آپریشن میں ریلیف اشیا کی تقسیم کی بات کی جائے تو شکار پور میں 6 ہزار مچھر دانیاں، 2000 ترپال، 1998 ہائی جین کٹس، 2 ہزار جانوروں کے لیے مچھر دانیاں، 2 ہزار چٹائیاں، 2 ہزار جیری کین، 200 پورٹ ایبل باتھ روم، 2 ہزار کچن سیٹس اور 2 ہزار ٹینٹس پہنچا دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: تباہ کن بارشیں اور سیلاب، اقوام متحدہ کا پاکستان میں غذائی بحران اور مہنگائی کا انتباہ
لاڑکانہ میں 6 ہزار مچھر دانیاں، 2000 ترپال، 2 ہزار ہائی جین کٹس، 2 ہزار جانوروں کے لیے مچھر دانیاں، 2 ہزار چٹائیاں، 2 ہزار جیری کین، 100 پورٹ ایبل باتھ روم، 2 ہزار کچن سیٹس، 2 ہزار ٹینٹس اور 2400 تلائیاں پہنچا دیے گئے ہیں۔
سکھر میں بھی 2 ہزار مچھر دانیاں، 2 ہزار ترپال، 2 ہزار چٹائیاں، 100 پورٹ ایبل باتھ روم ، 2 ہزار ٹینٹس، 2 ہزار کچن سیٹس اور 2400 تلائیاں پہنچا دیے گئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے مجموعی طور پر صوبے بھر میں 79 پانی نکالنے والے پمپس، 8 ہزار ترپال، 15 کشتیاں، 825 بڑے جبکہ 5 بچوں کے کیے لائف جیکٹس، 6500 ٹینٹس، 5 ہزار ہائجین کٹس، 14 ہزار مچھر دنیوں سمیت دیگر اشیاء فراہم کی جا چکی ہیں۔
سندھ میں مون سون کے باعث 25 جون 2025 سے یکم ستمبر 2025 تک 58 موات ہو چکی ہیں جبکہ 78 افراد زخمیں ہو چکے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
جاں بحق و زخمی ہونے کے واقعاتپی ڈی ایم اے ریکارڈ کے مطابق دیوار یا عمارت کا گرنے، آسمانی بجلی گرنے یا کرنٹ لگنے، زمین کے دھنسنے، پانی میں ڈوبنے اور چھت کے گرنے کی وجہ سے اموات یا زخمی ہونے کے واقعات ہوئے۔
جانوروں کی اموات25 جون 2025 سے یکم ستمبر 2025 تک سندھ بھر میں مون سون بارشوں کے باعث 231 جانور ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ تھرپارکر میں 207، میرپورخاص میں 10، ٹنڈو الہ یار میں 13 جبکہ سکر میں ایک جانور ہلاک ہوئے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کے متعدد اضلاع میں سیلاب کا خدشہ، کسان اتحاد کا حکومت پر غفلت کا الزام
مختلف مقامات میں 91 املاک کو نقصان پہنچا ہے، حیدر آباد اور جیکب آباد میں 350 ایکڑ پر محیط فصل کو نقصان پہنچا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی اے پی ڈی ایم اے سندھ سندھ حکومت کے اقدامات سندھ میں سیلاب سے اموات سیلاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی اے پی ڈی ایم اے سندھ حکومت کے اقدامات سندھ میں سیلاب سے اموات سیلاب کیمپس قائم کیے گئے ہیں پی ڈی ایم اے مچھر دانیاں ہزار مچھر کے مطابق
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔