WE News:
2026-07-24@09:05:06 GMT

سندھ میں سیلاب کب داخل ہوگا، حکومت کی تیاریاں کیا ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT

سندھ میں سیلاب کب داخل ہوگا، حکومت کی تیاریاں کیا ہیں؟

پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اس وقت سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے اور امکان ہے کہ 4 سے 5 ستمبر کو یہ سندھ میں داخل ہو جائے گا۔ اتھارٹی کے مطابق سیلاب کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور جہاں جہاں سے یہ گزرے وہاں تمام احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ، 9 اضلاع میں ہائی الرٹ

صوبہ سندھ کے زیادہ مقامات میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے تاہم جیکب آباد، کشمور، گھوٹکی، خیرپور، کمبر شہداد کوٹ، سانگھڑ، عمر کوٹ، ٹھٹھہ اور تھرپارکر میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ اس وقت گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجز پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے دریائے سندھ پر موجود گڈو اور سکھر بیراج سے 4 سے 5 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب گزرے گا صوبے میں تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق وہ پی ٹی اے سے رابطہ میں ہے جو موبائل فون پر پیغامات دے کر شہریوں کو آگاہ رکھی گی، مساجد میں اعلانات کیے جائیں گے اور بندوں کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہے گی اور جہاں ضروری سمجھا وہاں سے آبادی کو کیمپس میں منتقل کیا جائے گا۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں مٹیاری میں 5،800 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس وقت سندھ میں 140 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، ٹنڈو محمد خان میں ایک، شہید بے نظیر آباد میں 3، نوشہروفیروز میں 124 اور خیرپور 12 کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں 32 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ بات کی جائے مٹیاری کی تو یہاں 16، گھوٹکی میں 4 اور خیرپور میں 12 کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ کے ٹنڈو محمد خان، مٹیاری اور نوشہروفیروز سے 9921 افراد کو اور 35 ہزار جانوروں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

ریلیف کا سامان

ریلف آپریشن میں ریلیف اشیا کی تقسیم کی بات کی جائے تو شکار پور میں 6 ہزار مچھر دانیاں، 2000 ترپال، 1998 ہائی جین کٹس، 2 ہزار جانوروں کے لیے مچھر دانیاں، 2 ہزار چٹائیاں، 2 ہزار جیری کین، 200 پورٹ ایبل باتھ روم، 2 ہزار کچن سیٹس اور 2 ہزار ٹینٹس پہنچا دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: تباہ کن بارشیں اور سیلاب، اقوام متحدہ کا پاکستان میں غذائی بحران اور مہنگائی کا انتباہ

لاڑکانہ میں 6 ہزار مچھر دانیاں، 2000 ترپال، 2 ہزار ہائی جین کٹس، 2 ہزار جانوروں کے لیے مچھر دانیاں، 2 ہزار چٹائیاں، 2 ہزار جیری کین، 100 پورٹ ایبل باتھ روم، 2 ہزار کچن سیٹس،  2 ہزار ٹینٹس اور 2400 تلائیاں پہنچا دیے گئے ہیں۔

سکھر میں بھی 2 ہزار مچھر دانیاں، 2 ہزار ترپال، 2 ہزار چٹائیاں، 100 پورٹ ایبل باتھ روم ، 2 ہزار ٹینٹس، 2 ہزار کچن سیٹس اور 2400 تلائیاں پہنچا دیے گئے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے مجموعی طور پر صوبے بھر میں 79 پانی نکالنے والے پمپس، 8 ہزار ترپال، 15 کشتیاں، 825 بڑے جبکہ 5 بچوں کے کیے لائف جیکٹس، 6500 ٹینٹس، 5 ہزار ہائجین کٹس، 14 ہزار مچھر دنیوں سمیت دیگر اشیاء فراہم کی جا چکی ہیں۔

سندھ میں مون سون کے باعث 25 جون 2025 سے یکم ستمبر 2025 تک 58 موات ہو چکی ہیں جبکہ 78 افراد زخمیں ہو چکے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

جاں بحق و زخمی ہونے کے واقعات

پی ڈی ایم اے ریکارڈ کے مطابق دیوار یا عمارت کا گرنے، آسمانی بجلی گرنے یا کرنٹ لگنے، زمین کے دھنسنے، پانی میں ڈوبنے اور چھت کے گرنے کی وجہ سے اموات یا زخمی ہونے کے واقعات ہوئے۔

جانوروں کی اموات

25 جون 2025 سے یکم ستمبر 2025 تک سندھ بھر میں مون سون بارشوں کے باعث 231 جانور ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ تھرپارکر میں 207، میرپورخاص میں 10، ٹنڈو الہ یار میں 13 جبکہ سکر میں ایک جانور ہلاک ہوئے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کے متعدد اضلاع میں سیلاب کا خدشہ، کسان اتحاد کا حکومت پر غفلت کا الزام

مختلف مقامات میں 91 املاک کو نقصان پہنچا ہے، حیدر آباد اور جیکب آباد میں 350 ایکڑ پر محیط فصل کو نقصان پہنچا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی اے پی ڈی ایم اے سندھ سندھ حکومت کے اقدامات سندھ میں سیلاب سے اموات سیلاب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی اے پی ڈی ایم اے سندھ حکومت کے اقدامات سندھ میں سیلاب سے اموات سیلاب کیمپس قائم کیے گئے ہیں پی ڈی ایم اے مچھر دانیاں ہزار مچھر کے مطابق

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا