یکم سے تین ستمبر تک ایک اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے یکم سے 3 ستمبر ممکنہ بارشوں کے باعث متعدد علاقوں کے لیے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ یکم تا 3 ستمبر کے دوران ممکنہ بارشوں کے نتیجے میں مشرقی دریاؤں کے بہاؤ میں شدید اضافہ متوقع ہے۔
الرٹ کے مطابق دریائے ستلج میں اس وقت 2 لاکھ 53 ہزار 68 کیوسک کا غیر معمولی بہاؤ موجود ہے جبکہ بالائی علاقوں میں مزید بارش اور ڈیموں سے اخراج کے باعث مزید 3 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا متوقع ہے۔
دریائے راو ی میں جسر کے مقام پر اس وقت 60 ہزار 94 کیوسک کے ساتھ نارمل بہاؤ موجود ہے، تھین ڈیم سے پانی کے اخراج اور ممکنہ بارشوں کے باعث جسر کے مقام پر دریائے راوی کا بہاؤ 1 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک پہنچنے کی توقع ہے۔
بالائی علاقوں میں ممکنہ بارشوں کے باعث دریائے راوی سے منسلک نالے بین، بسنتَر اور ڈیک میں طغیانی کا خدشہ ہے جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر 94 ہزار 728 کیوسک کے ساتھ نچلی سطح کا بہاؤ موجود اور جموں و مقبوضہ کشمیر میں بارشوں اور بالائی ڈیمز بشمول سلال، بگلیہار، ڈل ہستی سے اخراج کے باعث بہاؤ میں شدید اضافہ متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں اور ڈیموں سے اخراج شدہ پانی کی آمد کے باعث مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا باعث بن سکتی ہے جبکہ جموں توی اور منورتوی سمیت دریائے چناب کے معاون نالوں بشمول، پلکومیں شدید طغیانی متوقع ہے۔
الرٹ کے مطابق نشیبی و دریا کناروں کے علاقے زیر آب آنے، پشتوں میں شگاف اور فصلوں و بستیوں کے زیرِآب آنے کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ مقامی آبادی، کسان اور متعلقہ ادارے ہائی الرٹ رہیں، بروقت حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے تمام ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں کی نگرانی کر رہا ہے۔
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر 24 گھنٹے کے لئے مکمل فعال ہے
این ڈی ایم اے سول و عسکری اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے
دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں
ممکنہ طور پر زیر آب آنے کے خطر ے سے دوچار علاقوں کے مکین انخلاء کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں
انخلا ء کے بعد عارضی کمپس سے اپنے علاقوں میں واپسی کے لیے اداروں کے ہدایات پر عمل یقینی بنائیں
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ممکنہ بارشوں کے ڈی ایم اے علاقوں میں کے مقام پر متوقع ہے کے ساتھ کے باعث
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔