وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سپر فلڈ سے نمٹنے کیلیے تیاری ہے اور 9 لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزرنے کے انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سپر فلڈ کی ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل تیاری کر رہی ہے اور 9 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کے گزرنے کے انتظامات مکمل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام کی جانب سے 8 سے دس لاکھ اور حتیٰ کہ بارہ سے تیرہ لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، تاہم سندھ حکومت نے ہر ممکنہ صورتحال کے پیشِ نظر جامع حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ دریائے چناب اور جہلم کا سب سے بڑا ریلہ ٹریمو بیراج پر ریڈکشن پر آچکا ہے اور اس پانی کو پنجند پہنچنے میں تین دن لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجند پر صورتحال واضح ہوگی اور وہاں سے ہمیں اصل اندازہ ہوگا کہ گڈو بیراج تک کتنا بڑا ریلہ پہنچے گا۔ یہ پانی مزید دو دن بعد گڈو بیراج پر پہنچے گا، یعنی 6 ستمبر کو ہم سب سے بڑے ریلے کی توقع کر رہے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 24 اگست کو 5.

5 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج سے گزارا جا چکا ہے جو سکھر اور کوٹری بیراج سے بھی بحفاظت گزر گیا ہے۔ ان کے مطابق ہر ایک لاکھ کیوسک کے اضافے سے دریا میں تقریباً ایک فٹ پانی بڑھتا ہے، تاہم سندھ کے بیراجز دس لاکھ کیوسک کے بہاؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا ہمیں اعتماد ہے کہ یہ بڑا ریلہ بھی بحفاظت گزر جائے گا۔ ہماری سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ کسی بھی صورت میں جانی یا مال مویشی کا نقصان نہ ہو۔ دریاؤں میں ممکنہ سپر فلڈ کے پیش نظر حکومت نے متاثرہ اضلاع کے دیہی علاقوں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور مقامی آبادی کو کسی بھی وقت محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے انتظامات مکمل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک لوگوں کو بڑے پیمانے پر منتقل نہیں کیا گیا ہے لیکن ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی کے فیلڈ اسٹاف نے نشیبی دیہات کے رہائشیوں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ انہیں کسی بھی وقت انخلاء کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس کم از کم دو دن کا وقت ہوگا، جس میں انخلا کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ نقل مکانی کے لیے کشتیوں اور دیگر سہولیات کا بندوبست کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہمارے پاس اپنی کشتیاں موجود ہیں، نیوی نے بھی مدد فراہم کررہی ہے، آرمی نے اپنے وسائل دیے ہیں، اور مقامی پرائیویٹ بوٹس کو بھی ہائر کیا جا رہا ہے تاکہ بروقت انخلاء ممکن بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دلایا کہ حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ کسی بھی بڑے سیلاب کی صورت میں عوام کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے انتظامات مکمل مراد علی شاہ نے انہوں نے کہا لاکھ کیوسک گڈو بیراج نے کہا کہ کسی بھی سپر فلڈ ہے اور

پڑھیں:

دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب

لاہور:

دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے باعث تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ چنیوٹ میں سیم نہر میں 50 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد فصلیں زیر آب آگئیں۔

محکمہ آبپاشی کے مطابق تریموں ہیڈ ورکس پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 48 ہزار 650 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 36 ہزار 50 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لیے چار فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔

دوسری جانب، چنیوٹ میں جھنگ روڈ بائی پاس کے قریب کانجو موڑ پر سیم نہر میں تقریباً 50 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس کے نتیجے میں کئی ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث نہر میں پانی کا دباؤ بڑھا، جس سے شگاف پیدا ہوا۔

اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے، جبکہ نہر کے شگاف کو پر کرنے اور مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی جاری ہے۔

ادھر ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریاوں کا بہاؤ مستحکم رہا۔

دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تربیلا 3 لاکھ 42 ہزار، کالا باغ 3 لاکھ 9 ہزار اور چشمہ میں 2 لاکھ 93ہزار کیوسک ہے۔

مزید پڑھیں

بھارت کی جانب سے آبی جارحیت، دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، الرٹ جاری

پنجاب میں مون سون کا سلسلہ برقرار، مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے جس کے بعد سیلابی صورتحال اونچے سے درمیانے درجے پر آگئی ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے دجے کا سیلاب ہے۔

ہیڈ مرالہ کی مقام پر پانی کا بہؤ 2 لاکھ 8 ہزار، خانکی کے مقام پر 1 لاکھ 65 ہزار اور قادر آباد کے مقام پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک ہے۔

دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک ہے جبکہ جسڑ، شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بہاؤ بھی نارمل ہے۔

نارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ارا کینٹ بریج ناکہ ایک میں نچلے درجے اور وزیر آباد نالہ ایک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

دوسری جانب، دریائے ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے سبب دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، دریائے چناب کے اپر کیچمنٹس میں بارشیں رک چکی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں سے دریائے چناب میں بہاؤ مستحکم ہو چکا ہے۔

ڈی جی نے ہدایت کی کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، حکومت پنجاب کی جانب سے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انتظامات مکمل ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ موسم و سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری