دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی تازہ ترین صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
پاکستان کے مختلف دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی تازہ ترین صورتحال کی رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 24 ہزار 456 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ دریائے سندھ میں سکھر کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 60 ہزار 890 کیوسک اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے مختلف دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی تازہ ترین صورتحال جاری کر دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 1 ہزار 395 کیوسک، ہیڈ اسلام کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب جبکہ پانی کا بہاؤ 81 ہزار 768 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 87 ہزار 255 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 24 ہزار 456 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ دریائے سندھ میں سکھر کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 60 ہزار 890 کیوسک اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 84 ہزار 325 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جبکہ پانی کا بہاؤ دریائے سندھ میں کیوسک ریکارڈ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :