کوہ سلیمان سے آنیوالے سیلابی پانی سے 2 ہزار سال پرانے سکے مل گئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
کوہ سلیمان کے پہاڑوں سے آنے والے سیلابی پانی نے جہاں پنجاب میں شدید تباہی مچائی وہیں وہ اپنے ساتھ قدیم خزانے بھی لایا۔
ڈیرہ غازی خان کی قبائلی پٹی سے گزرنے والے سیلابی ریلے اپنے ساتھ ہزاروں سال پرانے سکے اور مختلف ادوار کے نایاب نوادرات لے کر آئے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق سیلابی پانی سے ملنے والے سکوں میں ویما دیوا کشان دور کے سکے بھی شامل ہیں جو کہ 2 ہزار سال پرانے ہیں۔
انتظامیہ نے مزید بتایا ویما دیوا کشان دور کے علاوہ لودھی، تغلق، درانی، سکھ، مغل، برطانوی، عرب دنیا، وسطی ایشیا، چین اور خراسان کے سکے بھی ملے ہیں
انتظامیہ کے مطابق سخی سرور کے قریب پہاڑی ندی میں بہہ جانے والے قیمتی نوادرات مقامی لوگوں کو ملیں جنہیں بعد میں متعلقہ محکمے نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
انتظامیہ نے بتایا کہ یہ صرف دھات کے ٹکڑے نہیں ہیں بلکہ قدیم تہذیب کے نشانات ہیں، ان سکوں کے ڈیزائن خطے کے شاندار ماضی، سابقہ سلطنتوں کی شان و شوکت اور قدیم تجارتی راستوں کی جھلک دکھاتے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ آثار قدیمہ کے ماہرین مزید قیمتی نوادرات کی تلاش میں جلد ہی اس علاقے میں کھدائی شروع کر دیں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان