پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں: جلال پور پیر والا کے قریب موٹروے کا حصہ پانی میں بہہ گیا، ٹریفک کے لیے بند
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
بھارتی آبی جارحیت کے بعد بپھرے دریاؤں نے اپر پنجاب کے بعد جنوبی پنجاب میں بھی تباہی کی داستان رقم کردی، جلال پور پیروالا کے قریب دونوں اطراف سیلابی پانی کے بہاؤ سے ملتان سکھر ایم فائیو (M-5) موٹروے کو بھی نقصان پہنچا، جس کا ایک حصہ بہہ گیا، جس کے بعد موٹروے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود جنوبی علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، سیلاب جنوبی پنجاب سے آگے بڑھتا ہوا سندھ میں داخل ہورہا ہے۔
شجاع آباد میں دریائے چناب میں طغیانی سے 15 موضاجات پانی میں ڈوب گئے جب کہ 17موضاجات کو جزوی نقصان پہنچا اور اب تک 4000 سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔
جال پور پیر والا میں دریائے چناب اور دریائے ستلج نے 80 سے دیہات کو ڈبو دیا، جہاں سے 80 ہزار متاثرین کو ریسکیو کرلیا گیا جب کہ متعدد افراد اب بھی سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔
دریائے ستلج کے پانی نے موٹروے ایم 5 کو بھی متاثر کیا، موٹروے ٹنل کے قریب دراڑیں پڑگئی، موٹروے کے دونوں اطراف پانی کی روانگی کی وجہ موٹروے ٹریفک کے لیے تاحال بند ہے۔
جلالپور پیروالا کے قریب موٹروےایم 5 کا شمالی حصہ 50فٹ تک سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے اور موٹروے کا جنوبی حصہ بھی کٹاؤ کا شکارہے ملتان سکھر موٹر وے ایم 5 ملتان سے ترنڈہ محمد پناہ اور اُچ شریف تک کل سے بند ہے اور اب موٹروے ایم فائیوکھلنے کے فوری امکانات بھی نہیں ہیں pic.
— CPEC ???????????????? (@CPEC_UPDATE) September 15, 2025
دریائے چناب میں پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود مظفر گڑھ میں کئی بستیاں تاحال زیرآب ہیں، سیلاب نے 2000 سے زائد گھروں کو متاثر کیا جب کہ 30000 سے زائد متاثرین اب بھی گھروں کی راہ تک رہے ہیں۔
لیاقت پور میں پانی سطح تو کم ہوگئی لیکن کئی بستیاں تاحال زیرآب ہیں، سیلاب متاثرین شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔
چشتیاں کے 47 موضع جات اب بھی پانی کی لپیٹ میں ہیں، موضع راجوشاہ، بونگہ جھیڈ، مزید شاہ، میرن شاہ سیلاب سے شدید متاثر ہوئے۔ اوچ شریف کے 25 دیہات پانی میں ڈوبے گئے اور زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
علی پور میں دریائے سلتج، راوی اور چناب نے کئی بستیوں کو ڈبو دیا، ہیڈ پنجند سے 2 لاکھ 87 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، علی پور سے سیت پور کا زمینی راستہ بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے۔
سیلاب راجن پور، روجہان کو متاثر کرتا ہوا سندھ کی جانب رواں دواں ہے، کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائےسندھ میں اس وقت پانی کا بہاؤ 6 لاکھ کیوسک ہے۔
پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری
پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی ہے۔
پنجاب سیلاب سے مختلف حادثات میں اب تک 104 شہری جاں بحق ہوئے اور 4700 سے زائد موضع جات متاثر ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے باعث کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ پنجاب میں سیلاب کے باعث 47 لاکھ 20 ہزار لوگ متاثر ہوئے، جس میں سے 25 لاکھ 64 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
متاثرہ اضلاع میں 372 ریلیف کیمپس، 454 میڈیکل کیمپس اور مویشیوں کے علاج کے لیے 385 ویٹرنری کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں 20 لاکھ 70 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق منگلا ڈیم 94 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے جب کہ بھارت میں دریائے ستلج پر موجود بھاکڑا ڈیم 88 فیصد، پونگ ڈیم 94 فیصد اور تھین ڈیم 88 فیصد تک بھر چکا ہے۔
سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی پر پاور ڈویژن کی رپورٹ جاری
سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی پر پاور ڈویژن نے رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق فیسکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں 36 فیڈرز مکمل اور 44 جزوی بحال کردیے گئے جب کہ لیسکو کے 67 متاثرہ فیڈرز میں سے 63 مکمل اور 4 جزوی بحال ہوچکے ہیں۔
میپکو کے 180 متاثرہ فیڈرز میں سے 7 مکمل اور 166 جزوی بحال کیے جا چکےہیں۔ گیپکو کے 96 فیڈرز مکمل اور 7 جزوی بحال ہوچکے ہیں۔
پیسکو کے 87 فیڈرز مکمل اور 4 جزوی بحال کردیے گئے۔ ٹیسکو کے 17 فیڈرز مکمل اور ایک جزوی بحال کردیا گیا، اس کے علاوہ ہیزیکو کے زیرِ انتظام علاقے مانسہرہ کے 3 متاثرہ فیڈرز مکمل طور پر بحال ہیں جب کہ مجموعی طور پر 309 فیڈرز مکمل اور 226 جزوی طور پر بحال کردیے گئے ہیں۔
سیلاب متاثرین کی آباد کاری ایک بڑا چیلنج ہے، عظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا کیا ہے۔ پنجاب حکومت کے بروقت اقدامات سے لاکھوں جانوں کو محفوظ بنایا گیا۔ مریم نواز اور ان کی ٹیم سیلاب متاثرین کی خدمت میں دن رات مصروف ہیں۔ سیلاب متاثرین کی آباد کاری ایک بڑا چیلنج ہے۔ سیلاب کے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے،سروے مکمل ہونے کے بعد مریم نواز جلد ریلیف پیکج کا اعلان کریں گی۔۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت پر انگلی وہ اٹھا رہے ہیں، جن کے اپنے صوبے میں سیلاب اور بارشوں سے سینکڑوں لوگ جاں بحق ہوئے۔ خیبرپختونخواہ میں متاثرہ لوگ آج بھی بے یارومددگار پڑے ہیں۔ کے پی میں صوبائی حکومت لوگوں کے مسائل حل کررہی ہے، نہ اپنی رٹ قائم کرپا رہی ہے۔
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیڈرز مکمل اور سیلاب متاثرین رپورٹ جاری میں دریائے علاقوں میں میں سیلاب جزوی بحال پانی میں پنجاب کے سیلاب کے کے قریب پانی کی کے بعد کے لیے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔