پنجاب کی معیشت کو سیلاب سے 500 ارب روپے کا نقصان ہوا: احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سیلاب سے پنجاب کی معیشت کو 500 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
بھینیاں میں متاثرین کو امدادی سامان تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے بتایا کہ سیلاب سے پنجاب کو 500 ارب روپے کے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے، سیلاب کے نتیجے میں پنجاب کی لاکھوں ایکڑ اراضی تباہ ہو گئی جبکہ 4.
احسن اقبال کے مطابق حالیہ سیلاب ہمیں ایک بار پھر زراعت اور معیشت میں پیچھے دھکیل گیا ہے تاہم حکومت اس بار بیرونی امداد یا قرضوں کے بجائے خود انحصاری پر توجہ دے گی، کشکول کو خدا حافظ کہیں گے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا کہ 2025 کے سیلاب نے ہمیں ایک بار پھر یہ دکھایا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے، آج کی تقسیم صرف ریلیف سامان کی فراہمی نہیں ہے، یہ یکجہتی اور امید کا پیغام ہے۔
دوسری جانب ریلیف کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ شدید سیلابی صورتِ حال سے 4 ہزار 700 دیہات متاثر ہوئے اور 104 افراد جاں بحق ہو چکے، آج چاروں صوبوں کے زرعی محکموں کا اجلاس بلایا ہے۔
مزید برآں کل سے مون سون کے گیارہویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت پنجاب کے بالائی علاقوں میں بارشوں کا امکان اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
Post Views: 7
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: احسن اقبال
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.