خواتین کے کرکٹ ورلڈ کپ کی انعامی رقم میں ریکارڈ اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی نے خواتین کے ون ڈے ورلڈ کپ 2025 کے لیے انعامی رقم میں گراں قدر اضافہ کر دیا ہے، جس سے یہ ایونٹ مالی اعتبار سے 2023 کے مردوں کے ورلڈ کپ سے بھی زیادہ پرکشش بن گیا ہے۔
فاتح ٹیم کے لیے انعامی رقم 44 لاکھ 80 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے، جو 2022 میں خواتین آسٹریلوی کرکٹ کو ملنے والی 13 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی رقم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ رقم 2023 کے مردوں کے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی مرد ٹیم کو ملنے والے 40 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔
In another boost for women's cricket, there will be a huge increase in prize money for the @ICC Women’s @CricketWorldCup 2025.
— Jay Shah (@JayShah) September 1, 2025
آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ نے بیان میں کہا انعامی رقم میں 4 گنا اضافہ خواتین کرکٹ کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے اور یہ اس کھیل کی طویل المدتی ترقی کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ’ہمارا پیغام واضح ہے کہ خواتین کرکٹرز کو اس پیشے میں مردوں کے برابر سمجھا جائے گا۔‘
خواتین ورلڈ کپ کی مجموعی انعامی رقم 1 کروڑ 38 لاکھ 80 ہزار ڈالر ہے، جو 2022 کے 35 لاکھ ڈالر سے کہیں زیادہ اور 2023 کے مردوں کے ورلڈ کپ کے 1 کروڑ ڈالر سے بھی بڑھ گئی ہے۔ ہر شریک ٹیم کو کم از کم 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔
خواتین ورلڈ کپ کا 13واں ایڈیشن 30 ستمبر کو بھارتی شہر گوہاٹی میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان میچ سے شروع ہوگا، ٹورنامنٹ کا فائنل 2 نومبر کو بھارت میں کھیلا جائے گا، جبکہ پاکستان کی خواتین ٹیم اپنے میچز کولمبو میں کھیلے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل انعامی رقم بھارت پرائز منی جے شاہ سری لنکا کرکٹ ورلڈ کپ کرکٹرز کولمبو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بھارت جے شاہ سری لنکا کرکٹ ورلڈ کپ کرکٹرز کولمبو ہزار ڈالر مردوں کے ورلڈ کپ کے لیے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔