پاکستانی باکسرز کی چین میں شاندار کارکردگی
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
اسلام آباد (اسپورٹس ڈیسک) چین میں جاری تھرڈ بیلٹ اینڈ روڈ انٹرنیشنل باکسنگ گالا میں پاکستانی خواتین اور مرد باکسرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ایونٹ میں دنیا کے 26 ممالک کی 34 ٹیمیں شریک تھیں۔
تفصیلات کے مطابق پاک آرمی کی باکسر عائشہ ممتاز ویمنز انڈر 18 کی 48 کلوگرام کیٹیگری کے فائنل میں پہنچیں اور پاکستان کے لیے سلور میڈل جیتا۔ اس کامیابی کو ملک کے لیے ایک اہم اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔
ویمنز مقابلوں میں پاکستان کی ملائکہ زاہد اور ماریا بھی سیمی فائنل میں پہنچی ہیں، جسے ماہرین پاکستانی خواتین باکسنگ کے لیے بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
مرد باکسرز میں بھی عمدہ کارکردگی دیکھنے کو ملی۔ پاک آرمی کے قدرت اللہ نے سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ پنجاب کے حذیفہ راحیل اور خیبر پختونخوا کے ضمیر علی کوارٹر فائنل تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی چیئرپرسن بیگم عشرت اشرف نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے نہ صرف میڈلز جیتے بلکہ جرأت، ڈسپلن اور عزم کے ساتھ دنیا کو متاثر کیا۔ انہوں نے اس موقع پر خواتین باکسرز کی کارکردگی کو تاریخ ساز قرار دیا۔
صدر پاکستان باکسنگ فیڈریشن لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد ناصر اعجاز نے کہا کہ خواتین باکسرز کی کامیابی پاکستان کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ بیٹیوں نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان عالمی باکسنگ میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو سخت محنت، جدید تربیت اور بہترین سہولتیں فراہم کی گئیں، یہی ان شاندار نتائج کی بنیاد ہے۔ ناصر اعجاز نے مزید کہا کہ کوچز کی انتھک محنت اور قومی ٹریننگ کیمپ میں کی جانے والی تیاریوں نے ان فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستانی باکسنگ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ یہ کامیابیاں آنے والے وقت میں مزید فتوحات کی بنیاد رکھیں گی اور کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔