بونیر میں طوفانی بارش کے بعد ندی نالے بپھر گئے، مساجد سے انخلا کیلیے اعلانات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں پیر بابا اور اطراف کے علاقے گزشتہ رات اچانک سیلابی تباہی کا منظر پیش کرنے لگے، جب موسلا دھار بارش کے بعد ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی، اور پانی گھروں، گلیوں اور بازاروں تک جا پہنچا۔
مساجد سے مسلسل اعلانات کیے جا رہے ہیں، جن میں مقامی آبادی کو فوری انخلا کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ درجنوں خاندان محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے۔ ترجمان وزیراعلیٰ فراز مغل کے مطابق، بٹئی اور قدر نگر کے علاقوں سے پانی کا بہاؤ تیزی سے پیر بابا خوڑ کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث صورتحال مزید خطرناک ہو گئی ہے۔
پانی مرکزی بازار کے عقب اور سڑک کے بالکل کنارے تک پہنچ چکا ہے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کاشف قیوم ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کاشف خان موقع پر موجود ہیں، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف، ریسکیو 1122، محکمہ آبپاشی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
فراز مغل کے مطابق صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور عوام کو باقاعدہ آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
سیلابی ریلوں نے رابطہ سڑکوں کو ناقابلِ عبور بنا دیا ہے، کئی مقامات پر آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ کھڑی فصلیں، سبزیاں، اور باغات پانی میں ڈوب چکے ہیں، جس سے زرعی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔
ادھر مالاکنڈ کے علاقے بٹ خیلہ، الہ ڈھنڈڈھیری اور گردونواح میں بھی گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے 3 ستمبر تک ممکنہ مزید بارشوں کے باعث سیلابی الرٹ برقرار رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔