نبیل ظفر کو زندگی میں کس بات کا بےحد پچھتاوا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
پاکستان شوبز کے اداکار اور بہترین کامیڈین نبیل ظفر کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی زندگی میں ایک چیز کا بےحد پچھتاوا ہے۔ ایک حالیہ پروگرام میں اپنی نجی زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے ڈرامہ بُلبلے کیلئے مشہور اداکار نبیل ظفر نے کہا کہ انہیں اس بات کا بےحد افسوس اور شدید پچھتاوا ہے کہ وہ اپنے والدین کو ایک لگژری لائف اسٹائل نہ دے سکے۔ نبیل ظفر نے بتایا کہ جب والدین ان کی پرورش کر رہے تھے تو ان کے والد کو بہت محنت کرنی پڑی کیونکہ وہ مالی طور پر مستحکم نہیں تھے اور والد کا انتقال اس وقت ہوا جب انہوں نے انڈسٹری میں قدم رکھا ہی تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ میری زندگی کی سب سے زیادہ افسوس کی بات ہے کہ میں اپنے والد کو آسائشیں فراہم نہ کر سکا۔ نبیل نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ کاش میرے والد آج موجود ہوتے تو وہ دیکھ پاتے کہ اب ان کا بیٹا کتنا کچھ حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور کاش وہ اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے زندہ رہتے۔ نبیل ظفر نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ ان کے ساتھ مستقل کراچی منتقل ہوگئیں۔ نبیل نے انکشاف کیا کہ ان کی والدہ کو دل کا دورہ پڑا اور وہ انجیو پلاسٹی سے گزریں لیکن خون کا ایک لوتھڑا (کلاٹ) ان کے دماغ میں چلا گیا اور وہ چل بسیں۔اداکار مرحوم والدین کو یاد کرتے ہوئے رو پڑے اور بتایا کہ ان کی والدہ کو ان پر بہت اعتماد تھا اور وہ ان کی بیوی کو کہتی تھیں کہ میں ہمیشہ یہ دعا کرتی تھی کہ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو تم میرے بیٹے کے ساتھ رہو تاکہ اس کی دیکھ بھال کرسکو اور اسے سنبھال سکو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نبیل ظفر
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔