ایچ پی وی ویکسین سے متعلق پروپیگنڈہ کرنیوالے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2025ء ) حکومت نے ایچ پی وی ویکسین سے متعلق پروپیگنڈہ کرنیوالے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی مہم کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈہ کے معاملے پر اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایچ پی وی ویکسین سے متعلق پروپیگنڈہ کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بندکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس حوالے سے وزارت صحت نے این سی سی آئی اے کو خط لکھ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کینسر ویکسین مخالف پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے، کینسر ویکسین کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جائیں۔
دوسری طرف وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کراچی میں اپنی صاحبزادی کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگوا دی، کراچی میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ویکسین بڑی مشکل سے ہم نے حاصل کی ہے لیکن لوگ اس پر فتویٰ لگا رہے ہیں جو افسوس کی بات ہے، پاکستان دنیا کا 191واں ملک ہے جہاں یہ ویکسین لگائی جا رہی ہے، بہت سے اسلامی ممالک میں بھی یہ ویکسین لگائی جاچکی ہے۔(جاری ہے)
وفاقی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کے حوالے سے بہت گمراہ کن افواہیں زیر گردش ہیں، میری یہ کوشش ہے کہ میرے ملک کی ہر بیٹی کو یہ ویکسین لگائی جائے، اگر کسی ایک کی بھی جان اس گمراہ کن افواہوں کی وجہ سے جاتی ہے تو یہ بہت بڑا نقصان ہوگا، میں اپنی بیٹی کو لے کر آیا ہوں، یہ میری اکلوتی بیٹی ہے اور اس سے میں نے بات کی ہے کہ وہ اس ویکسین کو لگوائے، میں رب کی رضا کیلئے کام کررہا ہوں، میری فیملی سے کوئی بھی کبھی کیمرے کے سامنے نہیں آیا لیکن ان گمراہ کن افواہوں کو ختم کرنے کیلئے میری بیٹی سامنے آئی۔ مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ میری کوئی بھی بیٹی خود کو اس ویکسین سے دور نہ رکھے، میں اپنی قوم کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ نظام کے تحت ہر پاکستانی کا علاج نہیں ہوسکتا، ہمارا نظام یہ ہے کہ ایک ایک کرکے ہسپتالوں میں آتے رہتے ہیں، اور وہیں رک جاتے ہیں، درحقیقت ہمیں بیماریوں سے بچنا ہے، بچیوں کی ویکسینیشن کے بعد امید ہے خواتین 10 سال بعد سروائیکل کینسر کی وجہ سے جانیں نہیں گنوائیں گی، اس مہم کےآغاز سے ہی گمراہ کن پروپیگنڈا سامنے آرہا ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنی بیٹی کو یہ ویکسین لگوانے کا فیصلہ کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سروائیکل کینسر ویکسین سے یہ ویکسین گمراہ کن کا فیصلہ
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔