فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والے اور انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد کے خلاف یکم اکتوبر سے کارروائی شروع کی جائے گی۔

ایک لاکھ افراد کا ڈیٹا جمع

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آر نے نادرا اور لائف اسٹائل مانیٹرنگ ٹیم کی مدد سے سوشل میڈیا پر اپنی عیش و عشرت دکھانے والے ایک لاکھ امیر افراد کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے۔ شادیوں پر بڑے اخراجات کرنے والے نان فائلرز کو بھی کڑی نگرانی میں رکھا جا رہا ہے۔

مہنگی گاڑیاں، جائیدادیں اور زیورات چھپانے والوں پر نظر

مہنگی گاڑیوں، کشتیوں، موٹرسائیکلوں، فارم ہاؤسز، فلیٹس، بنگلوں اور قیمتی کپڑوں، جیولری اور گھڑیوں کی نمائش کرنے والے افراد کے گوشواروں کی سختی سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر کا بڑا فیصلہ، ٹیکس چوری کی ٹھیک اطلاع پر ڈیڑھ کروڑ تک کا اعلان کردیا

شادیوں میں 20،20 ہزار ڈالر کے سوٹ پہننے اور نوٹ نچھاور کرنے والے بھی کارروائی کی زد میں آئیں گے۔

نادرا کی معاونت، مکمل تفصیلات ایف بی آر کے پاس

ایف بی آر حکام کے مطابق نادرا کی معاونت سے ان افراد کے کریڈٹ اور اے ٹی ایم کارڈز، بیرون ملک سفر اور دیگر اخراجات کی تمام تر تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں۔

گوشوارے جمع کرانے کی ڈیڈ لائن مقرر

ایف بی آر نے واضح کر دیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے اور اس میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔

 جو افراد مقررہ تاریخ تک گوشوارے جمع نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایف بی آر پاکستان دولت کی نمائش سوشل میڈیا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر پاکستان دولت کی نمائش سوشل میڈیا گوشوارے جمع سوشل میڈیا کرنے والے ایف بی آر کی نمائش جائے گی

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل