سروائیکل ویکسین سے متعلق پروپیگنڈا، مصطفیٰ کمال نے بیٹی کو ویکسین لگوا دی
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اپنی صاحبزادی کوسروائیکل کینسرکی ویکسین لگوادی ۔کراچی میں سروائیکل کینسر کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں مصطفیٰ کمال نے اپنی صاحبزادی کو ویکسین لگوائی، بعد ازاں بیٹی کی انگلی پر خود مارک لگایا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا 151 واں ملک ہے جہاں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق ’ اس مہم کےآغاز سے ہی گمراہ کن پروپیگنڈا سامنے آرہا ہے، اس پروپیگنڈے کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنی بیٹی کو یہ ویکسین لگوانے کا فیصلہ کیا‘ ۔وفاقی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ اپنی 30 سالہ سیاسی کیرئیر میں میں کبھی اپنی فیملی کو منظر عام پر نہیں لایا لیکن آج قوم کی ہر بیٹی کی جان کو محفوظ بنانے کیلئے میں نے اکلوتی بیٹی کو یہ ویکسین لگوانے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر صحت
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔