پشاور میں صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی اور معاونِ خصوصی شفیع جان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل اختیار ولی نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر بے بنیاد الزامات عائد کیے، جو سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈا ہیں۔

مینا خان آفریدی نے کہا کہ تمام سیاسی حربے ناکام ہوچکے ہیں، سہیل آفریدی آئینی طور پر وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 9 مئی کے روز سہیل آفریدی پشاور میں موجود تھے، مگر اُن کے خلاف ایک من گھڑت بیانیہ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ اُن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: پرویز خٹک بادام نہیں توڑ سکتا پی ٹی آئی کو کیا توڑے گا، اختیار ولی کی شدید تنقید

انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ کے پہلے اجلاس میں ریڈیو پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی منظوری دی جائے گی تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

معاونِ خصوصی شفیع جان نے اس موقع پر کہا کہ اختیار ولی نے جعلی ویڈیو ٹی وی چینلز پر چلوا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، اور جن لوگوں نے ہماری نشستیں چھینی تھیں، وہ اب سہیل آفریدی کی کامیابی برداشت نہیں کر پا رہے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کابینہ کا اعلان کر دیا، کون کون شامل ہیں؟

شفیع جان نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کی جو ویڈیو کل نشر کی گئی وہ دراصل 16 مارچ 2023 کی ہے، اور اس کا 9 مئی کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی جان بوجھ کر روکی جا رہی ہے۔

مینا خان آفریدی نے کہا کہ 9 مئی دراصل تحریک انصاف کے لیے ایک ٹریپ تھا، اور اب جب سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں، تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد کابینہ میں مزید وزراء شامل کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

meena khan afridi SOHAIL AFRIDI مینا خان آفریدی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سہیل آفریدی اختیار ولی وزیر اعلی کہا کہ

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم