پاک-بھارت سپر فور میچ، متنازع ریفری اینڈی پائیکرافٹ ایک مرتبہ پھر ریفری ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
دبئی:
ایشیا کپ کے گروپ میچ میں متنازع بننے والے ریفری اینڈی پائیکرافٹ پاکستان اور بھارت کے درمیان سپر فور کے دوسرے میچ میں بھی ریفری ہوں گے۔
کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق 14 ستمبر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ میں ہاتھ ملانے سے منع کرنے کے تنازع میں ملوث ہونے والے اینڈی پائیکرافٹ اتوار کو بھی پاک-بھارت میچ میں ریفری کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان سپر فور کا میچ کل (اتوار،21 ستمبر) دبئی میں کھیلا جائے گا جبکہ 14 ستمبر کو گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کو باآسانی شکست دے دی تھی۔
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گروپ میچ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور ٹاس کے موقع پر دونوں کپتانوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔
بعد ازاں پاکستانی ٹیم کے کوچ نے بتایا تھا کہ میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ نے قومی ٹیم کے کپتان سلمان آغا کو بھارتی کپتان سے ہاتھ نہ ملانے کا کہا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اس معاملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے اینڈی پائیکرافٹ کو دیگر میچوں میں ذمہ داری نہ دینے کا مطالبہ کیا تھا اور متحدہ عرب امارات کے خلاف میچ سے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی۔
پی سی بی کے احتجاج کے بعد اینڈی پائیکرافٹ نے پاکستانی کپتان سے معافی مانگ لی تھی اور اس کے بعد پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے خلاف ایشیا کپ کا میچ کھیلا تھا اور اینڈی پائیکرافٹ ریفری تھے۔
قومی ٹیم نے سپر فور کے میچ سے قبل اپنی پریس کانفرنس بھی منسوخ کردی ہے اور بھارت سے میچ سے قبل ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سائیکولوجسٹ کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت کے درمیان اینڈی پائیکرافٹ سپر فور میچ میں
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک