سیلاب متاثرین کو بی آئی ایس پی سے مدد فراہم نہیں کی جاسکتی: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
تصویر، جیو نیوز اسکرین گریب
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد فراہم نہیں کی جاسکتی، جو بی آئی ایس پی سے رجسٹرڈ ہی نہیں انہیں امداد کیسے دی جائے؟
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سندھ میں بیرونی امداد کے باوجود لوگ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے، سندھ یا کراچی کا کیا حال ہے، کیا اُن سے عقل لینے کی ضرورت ہے جنہوں نے سندھ کو آثار قدیمہ بنادیا؟
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا، حکومتِ پنجاب اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی مدد کر رہی ہے، ہمیں بیرونی امداد کا انتظار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پچھلی بار سندھ میں سیلاب آیا تو اس کا مطلب ہے کہ کیا صوبائی حکومت کی تیاری نہیں تھی؟
صوبائی وزیر نے کہا کہ بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ پنجاب کی بھرپور تعریف کی ہے، بلاول بھٹو کے بیان کو زیادہ معتبر سمجھتی ہوں، سیلابی سیاست کرنے والوں کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔