پنجاب میں ڈرائیونگ ٹیسٹ اب اے آئی گاڑی لے گی، گاڑی میں کیاخصوصیات ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب میں ڈرائیونگ ٹیسٹ لینے کے لیے پہلی بار مصنوعی ذہانت والی گاڑی تیار کرلی گئی۔
جیو نیوز کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلجنس کے فیچرز والی پہلی گاڑی لاہور میں تیار کی گئی ہے جس سے ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا جائے گا۔
حکام کا بتانا ہےکہ جلد ہی اے آئی بیسڈ 200 گاڑیاں تیار کرکے تمام ڈرائیونگ ٹیسٹنگ سینٹرز میں پہنچا دی جائیں گی۔
ٹیسٹ کے دوران اگر ڈرائیور نے ریورس گیئر ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال کیا تو سافٹ ویئر اسے خود بخود فیل قرار دے کر گاڑی بند کر دے گا جب کہ گاڑی میں کیمرے بھی نصب ہیں۔
ایک اور شاندار منصوبہ شروع، ”روزگار کارڈ‘‘ کیلئے آن لائن اپلائی کا طریقہ کار
ڈی آئی جی ٹریفک پولیس وقار نذیر کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی ڈرائیونگ ٹیسٹ کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈرائیونگ ٹیسٹ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔