پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس کے امتحانات میں ایک انقلابی تبدیلی متعارف کروائی جا رہی ہے، جہاں پہلی بار مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس گاڑیوں کے ذریعے ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا جائے گا۔ لاہور میں تیار کی گئی یہ جدید گاڑی ڈرائیونگ ٹیسٹ کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔

ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی وقار نذیر کے مطابق یہ گاڑی ڈرائیونگ ٹیسٹ کے تمام مراحل کو خودکار طریقے سے انجام دے گی۔ گاڑی میں نصب جدید سافٹ ویئر ڈرائیور کی کارکردگی کا خود بخود جائزہ لے گا۔ مثال کے طور پر، اگر امیدوار ریورس گیئر ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال کرے گا تو سافٹ ویئر خود بخود اسے ناکام قرار دے کر گاڑی بند کردے گا۔

گاڑی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں متعدد کیمرے نصب ہیں، جو ڈرائیونگ ٹیسٹ کے ہر پہلو کو ریکارڈ کریں گے۔ یہ کیمرے نہ صرف امیدوار کی ڈرائیونگ مہارت کو پرکھیں گے، بلکہ ٹیسٹ کے دوران کسی بھی قسم کی بے قاعدگی کو بھی نوٹ کریں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی 200 ایسی اے آئی گاڑیاں تیار کرکے صوبے کے تمام ڈرائیونگ ٹیسٹنگ سینٹرز میں بھیج دی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد ڈرائیونگ ٹیسٹ کے عمل میں یکسانیت لانا اور انسانوں کی جانب سے ہونے والی ممکنہ غلطیوں کو ختم کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ جدید نظام نہ صرف ڈرائیونگ معیارات کو بہتر بنائے گا، بلکہ سڑکوں پر حادثات کی شرح میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈرائیونگ ٹیسٹ کے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان