کین ولیمسن کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
نیوزی لینڈ کے سابق کپتان کین ولیمسن نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ سے فوری ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے مطابق ولیمسن نے یہ فیصلہ اپنے بین الاقوامی کیریئر کے بوجھ کو کم کرنے کے اور ٹیسٹ و ون ڈے کرکٹ پر زیادہ توجہ دینے کے لیے کیا ہے۔
کین ولیمسن نے اپنی قیادت میں نیوزی لینڈ کو کئی یادگار فتوحات دلائیں، جن میں 2021 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی بھی شامل ہے۔ وہ اپنی بردباری، شاندار بیٹنگ تکنیک اور قیادت کی صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر میں کرکٹ شائقین کے پسندیدہ رہے ہیں۔
ریٹائرمنٹ کے موقع پر ولیمسن نے کہا کہ ’’ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلنا میرے لیے اعزاز کی بات تھی۔ میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز، اور مداحوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔‘‘
کین ولیمسن نے اپنی شاندار کیریئر میں 93 ٹی ٹوئنٹی میچز میں شرکت کی اور 2575 رنز اسکور کیے۔
نیوزی لینڈ کرکٹ کے مطابق ولیمسن مستقبل میں ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کین ولیمسن نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی ولیمسن نے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔