فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے والی خاتون پر تشدد کرنے والا آسٹریلوی پولیس اہلکار عدالت طلب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
آسٹریلیا میں فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے والی خاتون پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکار کو عدالت نے طلب کرلیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق پولیس کانسٹیبل پر رواں سال سڈنی میں فلسطینی حامی مظاہرے میں شریک ایک خاتون پر مبینہ طور پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق گرینز پارٹی کی سابق امیدوار ہینا تھامس نے الزام عائد کیا تھا کہ جون میں بیلمور میں ہونے والے احتجاج کے دوران ایک پولیس افسر نے ان کے چہرے پر مُکے مارے تھے۔
مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 33 سالہ سینئر کانسٹیبل کی ملازمت کے حوالے سے جائزہ لیا جارہا تھا اور اس واقعے کی تحقیقات بھی جاری تھیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اب اس 33 سالہ پولیس کانسٹیبل کو اگلے ماہ عدالت نے طلب کرلیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔