پولیس ‘خواجہ سرا ‘صحافی کونشانہ بنانادہشت گردی کانیارخ ہے‘سنی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر )کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور خاص طور پر پولیس، خواجہ سرا اور صحافی نشانے پر ہیں۔اس طرح کے واقعات شہر کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔ایسی کارروائیاں عام طور پر خوف پھیلانے اور اداروں کو کمزور کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری شامی نے حالیہ دہشت گردی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا نیا رخ ہے۔خواجہ سرا کمیونٹی اور صحافیوں کو نشانہ بنانا معاشرتی تقسیم اور افراتفری پیدا کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ بھی بہت زیادہ دباؤ ہے۔پولیس پر حملے ان کی کارروائیوں کو محدود کرنے اور دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دینے کی کوشش ہو سکتی ہے۔جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد دونوں نے پہلے پولیس کو ٹارگٹ کیا پھر صحافیوں کو دھمکیاں اور ان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔پولیس جرائم کو روکتی ہے اور صحافی اس کی نشاندہی کرتے ہیں اس لیے اس طرح کے واقعات کیے جا رہے ہیں کہ کوئی بھی اپنا کام ایمانداری سے نہ کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے واقعات
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔