Express News:
2026-07-24@11:34:14 GMT

صدر ٹرمپ کا جنرل اسمبلی سے خطاب!

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کے سامنے اعلانیہ کہا کہ انھوں نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا تھا۔ انھوں نے واضح طور پرکہا کہ وہ اب تک سات جنگیں رکوا چکے ہیں۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں رکوانے میں اقوام متحدہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد عالمی سطح پر امن کا قیام تھا لیکن اس نے کسی تنازع کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اقوام متحدہ کے کردار پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ناقدانہ تبصرہ اس امر کا عکاس ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے موجودہ عالمی کردار کو جاری تنازعات کے تناظر میں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے، غالباً اسی لیے انھوں نے اپنی تقریر میں یہ کہنا ضروری سمجھا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

صدر ٹرمپ نے بعض مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے اعلانات کے پس منظر میں کہا کہ کئی طاقتور ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے ایسا کرنا حماس کے لیے انعام ہوگا۔ انھوں نے غزہ میں جاری انسانی المیے پر اپنی گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں پائیدار امن نہایت ضروری ہے۔ وہاں سنگین بحران جنم لے رہا ہے، جنگ بندی ازبس ضروری ہے۔ حماس کو قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانا ہوگا۔ امریکی صدر نے اسلامی ممالک کے تعاون سے فلسطین میں قیام امن اور جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ باہم مل کر ہی تنازع کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ امریکا دنیا میں قیام امن کے لیے اپنا موثرکردار ادا کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے کشیدہ حالات پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے بغیر عالمی امن کا تصور ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازع کشمیر کے حوالے سے واضح کیا کہ بھارت کو خطے میں امن قائم کرنے اور انسانی حقوق کی ذمے داریاں پوری کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے بھارت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ روس سے تیل خرید رہا ہے جو غیر منصفانہ رویہ ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دنیا کو منصفانہ تجارت کے اصول اپنانا ہوں گے تاکہ سب کے لیے یکساں مواقع پیدا ہوں۔ صدر ٹرمپ نے دنیا میں اسلحے کی دوڑ کو امن کے لیے خطرناک رجحان قرار دیا۔ ان کا موقف ہے کہ امن معاہدے اور سفارت کاری ہی تمام تنازعات کا مستقل حل ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر یہ اعلان بھی کیا کہ امریکا اب کسی کی جنگ نہیں لڑے گا۔ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے تاریخ کا طویل ترین خطاب کیا جو تقریباً 57 منٹ پر مشتمل تھا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے طویل ترین خطاب میں دنیا میں جاری تنازعات بالخصوص مسئلہ کشمیر، مسئلہ فلسطین اور روس یوکرین جنگ سمیت جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکی تجارتی پالیسیوں اور امیگریشن کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کیا کہ وہ امریکا عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے کردار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس وقت پوری دنیا میں فلسطین کا تنازعہ سب سے زیادہ موضوع بحث ہے۔

اسرائیل فلسطین میں گزشتہ تقریباً دو سال سے آگ و خون کی جو ہولی کھیل رہا ہے اور نیتن یاہو ’’ گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جس بربریت، سفاکی اور شقی القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، اس کی پشت پر امریکا ہی کا ہاتھ ہے۔ مشرق سے لے کر مغرب تک ساری دنیا فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور مسلسل جنگ بندی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں لیکن اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکا ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ دوسری جانب عالمی سطح پر فلسطینیوں کی حمایت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال کے بعد اب فرانس، بیلجیم، اسپین، مناکو اور دیگر ممالک نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے جو نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکا کے لیے بھی ایک دھچکا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر اسرائیل کے خلاف تیزی سے عملی اقدامات اٹھائیں۔ یہودی آبادکاری روکنے اور جنگ بندی کے لیے دباؤ میں اضافہ کریں۔ صدر ٹرمپ فلسطین کا تنازعہ حل کروانے میں اگر کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ تاریخ میں امر ہو جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے نے اقوام متحدہ کرتے ہوئے انھوں نے دنیا میں کیا کہ رہا ہے امن کے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026ء کے سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر 24 جولائی کو قائداعظم سٹیڈیم میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026ء کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں پولنگ 27 جولائی کو ہوگی۔ اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف 24 جولائی کو قائداعظم سٹیڈیم میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے۔جلسے میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی شرکت کریں گے۔ قائداعظم سٹیڈیم میں جلسے کی تیاریاں جاری ہیں جبکہ سٹیج کی تعمیر کے لیے کنٹینرز بھی پہنچا دیئے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن