فرانس کے سابق صدر کو قذافی فنڈنگ کیس میں 5 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیرس: فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی سے 2007 کی انتخابی مہم کے لیے غیر قانونی فنڈنگ اسکیم میں ملوث ہونے پر عدالت نے 5 سال قید کی سزا سنا دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے بعد نکولس سرکوزی جنگِ عظیم دوم کے بعد جیل جانے والے پہلے فرانسیسی سربراہ مملکت بن جائیں گے۔
عدالت نے سرکوزی کو مجرمانہ سازش کے الزام میں مجرم قرار دیا جبکہ کرپشن اور ذاتی طور پر غیر قانونی فنڈز وصول کرنے کے الزامات سے بری کردیا۔ فیصلے کے مطابق پراسیکیوٹرز ایک ماہ کے اندر انہیں مطلع کریں گے کہ کب جیل بھیجا جائے گا اور اگر انہوں نے اپیل بھی کی تو یہ فیصلہ برقرار رہے گا۔
70 سالہ سرکوزی پر ایک لاکھ یورو (تقریباً ایک لاکھ 17 ہزار ڈالر) جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے اور انہیں مستقبل میں کسی بھی سرکاری عہدے پر فائز ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سرکوزی کو اس سے قبل بھی دو مقدمات میں سزا سنائی جاچکی ہے لیکن وہ جیل جانے سے بچ نکلے تھے، اس بار انہیں قید کی سزا کے ساتھ براہِ راست جیل جانے کا سامنا ہے۔
سزا سننے کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں نکولس سرکوزی نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپیل کریں گے، یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی کے لیے نہایت سنگین ہے۔
سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ یہ جرائم “غیر معمولی سنگینی” کے حامل ہیں اورشہریوں کے اعتماد کو نقصان پہنچانے والے ہیں، عدالت نے پراسیکیوشن کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا کہ سرکوزی نے براہِ راست غیر قانونی فنڈنگ سے ذاتی فائدہ اٹھایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔