Jasarat News:
2026-07-24@03:05:10 GMT

یوکرینی صدر نے جنگ بندی پر عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کردی

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس سے جنگ کے خاتمے کے بعد عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کردی۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ روس سے جنگ کے خاتمے کے بعدعہدہ چھوڑنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا مقصد جنگ ختم کرنا ہے، نہ کہ صدارت کے عہدے پر براجمان رہنا ہے۔ واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان سال 2022 ء سے جاری جنگ میں اب تک دونوں جانب سے لاکھوں فوجی اور عام شہری ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں جب کہ جنگ بندی کی متعدد کوششیں کی گئیں جو اب تک ناکام رہیں۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا کہ یوکرین اور شام نے سرکاری طور پر سفارتی تعلقات دوبارہ قائم کر لیے ہیں۔ یہ اعلان دونوں صدور کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ملاقات کے بعد کیا گیا۔زیلنسکی نے اپنے اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہاکہ یوکرین اور شام نے آج سرکاری طور پر سفارتی تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم اس اہم اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہم شام کے عوام کی استحکام کی راہ میں حمایت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ شام کے صدر احمد الشرع کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہم نے تعاون کو فروغ دینے والے امید افزا شعبوں، دونوں ممالک کو درپیش سیکورٹی خطرات اور ان سے نمٹنے کی اہمیت پر تفصیل سے بات کی۔صدر یوکرین نے اپنی پوسٹ کے آخر میں کہاکہ ہم نے اپنے تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور اعتماد پر رکھنے پر متفق ہونے کا اعلان کیا ہے۔یوکرین نے 2022 ء میں شام کے ساتھ اس وقت تعلقات ختم کر دیے تھے، جب روسی حمایت یافتہ سابق صدر بشار الاسد کی حکومت نے روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقوں کو خودمختار علاقے تسلیم کیا تھا۔

 

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوکرینی صدر

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم