Jasarat News:
2026-06-03@05:00:32 GMT

پنجاب حکومت کا افغان شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پنجاب حکومت نے افغان شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں افغان باشندوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی افغان شہریوں کا ریئل ٹائم ڈیٹا تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت پنجاب کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کے حوالے سے “وسل بلوئر سسٹم” متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت اطلاع دینے والے کا نام مکمل طور پر صیغۂ راز میں رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے غیر قانونی رہائشیوں اور ان کے کاروباروں کے خلاف کومبنگ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ایسے غیر ملکی باشندوں کو وفاقی پالیسی کے تحت فوری طور پر ملک بدر کیا جائے گا۔

دوسری جانب، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کراچی کی بندرگاہوں سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ترسیل عارضی طور پر معطل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈ، کسٹمز ہاؤس کراچی میں ڈائریکٹر جنرل افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کوئٹہ اور پشاور کے افغان ٹرانزٹ ڈائریکٹرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 98.

2025 کے مطابق، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ترسیل کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کی وجہ کوئٹہ اور پشاور میں کنٹینرز کی محدود گنجائش بتائی گئی ہے، جہاں مزید کنٹینرز رکھنے کی جگہ دستیاب نہیں رہی۔

تمام ٹرمینلز کو ہدایت دی گئی ہے کہ جو کنٹینرز پہلے ہی گاڑیوں پر لوڈ کیے جا چکے ہیں، انہیں فوری طور پر آف لوڈ کر دیا جائے۔ ساتھ ہی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تمام گیٹ پاسز منسوخ کر دیے گئے ہیں اور ترسیل کو مکمل طور پر روکنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ نئی ہدایات تک نافذ العمل رہے گا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغان ٹرانزٹ ٹریڈ فیصلہ کیا کا فیصلہ

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم