انقرہ پارک جاگنگ ٹریک منصوبے میں 1 کروڑ 80 لاکھ روپے کی مالی بے ضابطگی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد کے انقرہ پارک میں جاگنگ ٹریک کی تعمیر کے منصوبے میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
زرایع کے مطابق سی ڈی اے انوائرمنٹ وِنگ نے ایک جعلی کنسٹرکشن کمپنی کو ٹھیکا دے رکھا تھا۔ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ جاگنگ ٹریک کا ٹھیکا ایک کروڑ روپے کی حد میں ہونا تھا، مگر ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کا معاہدہ سائن کر دیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق دو بلز فزیکل ویریفکیشن اور لیب ٹیسٹ کے بغیر ادا کیے گئے، جن میں 3.
مزید انکشاف ہوا کہ متعلقہ افسران کی ملی بھگت سے یہ رقم جعلی کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی، اور 8.5 ملین روپے کے دو چیکس کی منتقلی کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔
دستاویزات کے مطابق منصوبے سے ہونے والا کل نقصان ایک کروڑ 80 لاکھ 57 ہزار روپے ریکارڈ کیا گیا، جب کہ پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹینڈر بغیر الاٹمنٹ کے جاری کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ فنانس وِنگ نے فنڈز الاٹمنٹ نہ ہونے کے باوجود ادائیگیوں کی منظوری دی، لیب رپورٹس غائب ہوئیں، جعلی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے اور تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹریک پہلے سے موجود تھا۔
ذرائع کے مطابق انقرہ پارک جاگنگ ٹریک کی انکوائری رپورٹ مکمل ہوئے 10 ماہ گزر چکے ہیں لیکن تاحال کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جاگنگ ٹریک کے مطابق ایک کروڑ
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔