data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، حالیہ واقعات سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے، افغان جارحیت پر افواج پاکستان کو جواب دینا پڑا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی درخواست پر 48 گھنٹے کیلئے جنگ بندی کی گئی، اب بال افغانستان کے کورٹ میں ہے، دوست ممالک خاص طور پر قطر اس معاملے کو طے کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے دو ہزار کلو میٹر کا بارڈر شیئر کرتا ہے، اپنے محدود وسائل کے باوجود 40 لاکھ افغان شہریوں کی میزبانی کی، پاکستان اور افغانستان کی طویل مشترکہ سرحد ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ افغان دہشتگرد پولیس،افواج پاکستان کے جوانوں اور عام شہریوں کو شہید کر رہے ہیں۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اقوام متحدہ نے افغان سرحد کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے: اسحاق ڈار

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے بتایا تھا کہ انہوں نے  ٹی ٹی پی کے چند افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان سرزمین سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بڑھتے خطرات اور پاکستان کے سفارتی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ اس معاملے پر عسکری قیادت اور وزیراعظم سے بات کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے پاکستان کو بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چند افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم اس پر واضح کیا گیا کہ چند سو افراد کی گرفتاری کافی نہیں ہے۔

وزیر خارجہ نے زور دیا کہ پاکستان کا مقصد یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور امن ہی واحد حل ہے، ٹی ٹی پی کو پاکستانی سرحد سے دور منتقل کیا جائے یا ہمارے حوالے کیا جائے تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے حالیہ عرصے میں ماسکو، بحرین اور برسلز کے دورے کیے، جن میں ماسکو میں ایس سی او سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ملک کی معاشی ترجیحات، علاقائی روابط، توانائی کے شعبے میں تعاون اور دیگر اہم مسائل پر مؤقف پیش کیا۔ ماسکو میں صدر پیوٹن نے ایس سی او اجلاس کے دوران شریک وفود کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔

وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے صدر سے بھی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، افغانستان، دہشت گردی اور جی ایس پی پلس جیسے مختلف امور زیر بحث آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے 27 ممالک کو پاکستان اور افغانستان سے متعلق درست معلومات فراہم کی گئیں اور بتایا کہ افغانستان نے انسداد دہشت گردی کے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے وعدے پورے کیے اور مثبت اقدامات اٹھائے، لیکن افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے کوئی مؤثر تعاون نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں صورتحال مزید خراب ہوئی۔

یہ بیان پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف سفارتی کوششوں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

متعلقہ مضامین

  • اسلامی ممالک کابل، اسلام آباد کشیدگی میں مؤثر ثالث بن سکتے ہیں،افغان سفیر
  • وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش کی سابقہ وزیراعظم کے نام خط، صحت یابی کی دعا
  • وزیراعظم شہباز شریف کا سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کو خط، صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار
  • شہباز شریف نے لندن میں اپنا قیام بڑھا دیا
  • وزیراعظم کا لندن میں طبی معائنہ، قیام بڑھانے کا فیصلہ
  • وزیراعظم شہباز شریف کا لندن میں طبی معائنہ، قیام میں اضافہ
  • اقوام متحدہ نے افغان سرحد کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے: اسحاق ڈار
  • آزاد فلسطینی ریاست اور اسرائیلی مظالم پر جوابدہی ناگزیر؛ عالمی یوم یکجہتی پر وزیراعظم کا پیغام
  • آئین لکھنے کا حق پارلمینٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو نہیں، اسپیکر پنجاب اسمبلی
  • کوئٹہ ،غیررجسٹرڈ افغان پناہ گزین اپنے سامان کے ساتھ واپس افغانستان جارہے ہیں