کابل کی درخواست پرعارضی جنگ بندی کی، اب بال افغانستان کے کورٹ میں ہے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، حالیہ واقعات سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے، افغان جارحیت پر افواج پاکستان کو جواب دینا پڑا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی درخواست پر 48 گھنٹے کیلئے جنگ بندی کی گئی، اب بال افغانستان کے کورٹ میں ہے، دوست ممالک خاص طور پر قطر اس معاملے کو طے کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے دو ہزار کلو میٹر کا بارڈر شیئر کرتا ہے، اپنے محدود وسائل کے باوجود 40 لاکھ افغان شہریوں کی میزبانی کی، پاکستان اور افغانستان کی طویل مشترکہ سرحد ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ افغان دہشتگرد پولیس،افواج پاکستان کے جوانوں اور عام شہریوں کو شہید کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔