عہدہ سنبھالتے ہی تنازع، قومی پرچم کی جگہ پی ٹی آئی کا پرچم کیوں؟ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تنقید کی وجہ ان کی ایک حالیہ وائرل تصویر بنی ہے، جس میں انہیں دفتر میں بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پس منظر میں پاکستان کے قومی پرچم کی جگہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا پرچم آویزاں نظر آ رہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس عمل کو سخت ناپسند کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ متعدد صارفین نے اس اقدام کو غیرمناسب اور قومی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل ان لوگوں کی محبِ وطن ہونے کے دعووں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر فیاض الحسن چوہان نے معافی کیوں مانگی؟
سید عدنان نے کہا کہ اس تصویر کو غور سے دیکھیں پاکستان کا جھنڈا کہاں گیا؟ پھر کہتے ہیں ہم تو بڑے محب وطن ہیں۔
گنڈاپور کا آفس میں پہلا دن ۔۔۔
سہیل آفریدی کا آفس میں پہلا دن ۔۔۔
اس تصویر کو غور سے دیکھیں پاکستان کا جھنڈا کہاں گیا؟ پھر کہتے ہیں ہم تو بڑے محب وطن ہیں pic.
— سید عدنان بادشاہ ???????? (@syed_bacha) October 15, 2025
اقرارالحسن نے لکھا کہ پاکستان کا پرچم لاوارث ہے کہ ملک کے اہم ترین صوبے کے وزیراعلیٰ کے دفتر میں اسے مقررہ مقام سے ہٹا کر ایک فالتو چیز کی طرح میز پر بھی ایک کونے پر رکھ دیا گیا۔
پاکستان کا پرچم لاوارث ہے کہ ملک کے اہم ترین صوبے کے وزیراعلٰی کے دفتر میں اسے مقررہ مقام سے ہٹا کر ایک فالتو چیز کی طرح میز پر بھی ایک کونے پر رکھ دیا گیا۔۔۔ #قومی_پرچم_کیوں_ہٹایا pic.twitter.com/w05bh1CqUN
— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) October 15, 2025
فرحان ورک نے لکھا کہ قائد اعظم کی جگہ عمران خان کی تصویر لگ گئی ہے، پاکستان کی جگہ تحریک انصاف کا جھنڈا لگ گیا ہے۔ وزیر اعلی نے پہلا نوٹس روٹی، کپڑے کی بجائے صنم جاوید کا لے لیا ہے۔ پاکستان کا جھنڈا پی ٹی آئی کے جھنڈے سے سائز میں دس گنا کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تمام تحریک انصاف کے حامیوں کو تبدیلی مبارک ہو۔
قائد اعظم کی جگہ عمران نیازی لگ گیا ہے!✅️
پاکستان کی جگہ تحریک کذاب کا جھنڈا لگ گیا ہے!✅️
وزیر اعلی نے پہلا نوٹس روٹی، کپڑے کی بجائے صنم جاوید کا لے لیا ہے✅️
پاکستان کا جھنڈا PTI کے جھنڈے سے سائز میں دس گنا کم ہو گیا✅️
تمام تحریک انصاف کے حامیوں کو تبدیلی مبارک ہو ✌️ pic.twitter.com/0FZkzbTd2W
— Dr Farhan K Virk (@FarhanKVirk) October 15, 2025
ایک صارف نے لکھا کہ کیا پاکستان کا پرچم لاوارث ہے کہ ملک کے اہم ترین صوبے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے دفتر میں اسے مقررہ مقام سے ہٹا کر ایک فالتو چیز کی طرح میز پر بھی ایک کونے پر رکھ دیا گیا۔
کیا پاکستان کا پرچم لاوارث ہے؟ کہ ملک کے اہم ترین صوبے خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی کے دفتر میں اسے مقررہ مقام سے ہٹا کر ایک فالتو چیز کی طرح میز پر بھی ایک کونے پر رکھ دیا گیا۔#قومی_پرچم_کیوں_ہٹایا pic.twitter.com/Rrbf8Bw39U
— Shahid Khaqan Abbasi ( Fan ) (@Khaqanabbasifan) October 16, 2025
واضح رہے کہ عمران خان نے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے کہا کہ وہ ان کے اوپننگ بیٹسمین ہیں، جنہیں پُراعتماد انداز میں کھیلنا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عمران خانذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی
پڑھیں:
وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کا دھرنا ہنگامی مشاورت کے بعد ختم، عدالت جانے کا اعلان
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا 10 گھنٹے سے جاری دھرنا ہنگامی مشاورت کے بعد ختم ہوگیا، جس کے بعد انہوں نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی ر پورٹ کے مطابق دھرنے میں علامہ ناصر عباس کی آمد کے بعد ایک مشاورتی نشست ہوئی جس میں مختلف سیاسی رہنماؤں سمیت محمود خان اچکزئی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی بھی شریک تھے۔
مشاورت کے بعد فیصلہ سامنے آیا کہ نمازِ فجر کے فوراً بعد وزیرِ اعلیٰ اپنا دھرنا ختم کر دیں گے اور آئندہ لائحہ عمل کے لیے منگل کے روز دوبارہ کارکنوں کو احتجاج کی کال دی جائے گی۔ اسی دوران یہ بھی طے پایا کہ عدالت سے رجوع کرتے ہوئے آج ہی توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی تاکہ قانونی راستے سے بھی اس معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
مشاورت مکمل ہونے کے بعد علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی دھرنے کے مقام سے روانہ ہو گئے، جب کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی وہیں موجود رہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ یہ دھرنا کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ وزیرِ اعلیٰ کو یقین تھا کہ بطور صوبائی چیف ایگزیکٹو انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت ملے گی، لیکن حالات اس کے برعکس نکلے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی شرافت کی زبان نہیں سمجھتا۔ سہیل آفریدی نے جمہوری حق کے اظہار کے لیے دھرنے کا راستہ اختیار کیا، بظاہر یہ دھرنا عدالتی حکم تک جاری رہتالیکن حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے لیے وقتی طور پر اسے ختم کرنا ضروری ہو گیا۔
انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات یقینی بنانی ہے تو پارٹی اپنی عوامی قوت استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ہم ایوانوں میں بیٹھ کر کارروائی آگے بڑھاتے رہیں۔