ناروے کی عدالت نے امریکی سفارتخانے کے سیکیورٹی گارڈ کو روس اور ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیدتے ہوئے 3 سال اور 7 ماہ قید کی سزا سنا دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مقدمہ ناروے کی حالیہ تاریخ میں حساس نوعیت کے سب سے بڑے خفیہ معلوماتی اسکینڈلز میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی سفارت خانے کے گارڈ پر الزام تھا کہ اس نے متعدد خفیہ دستاویزات، سفارتی روٹس، سیکیورٹی پروٹوکول اور سفارتکاروں کی سرگرمیوں کی معلومات روس اور ایران کے خفیہ اداروں تک پہنچائیں۔

جس کے بدلے میں اسے روسی انٹیلی جنس نے 10 ہزار یورو  اور ایرانی انٹیلی جنس نے 0.

17 بٹ کوائن دیئے تھے۔

ناروے کی خفیہ ایجنسی PST نے اس شخص کو اُس وقت گرفتار کیا جب انٹیلی جنس ذرائع سے معلومات ملیں کہ وہ غیر ملکی ایجنٹوں سے رابطے میں ہے۔

ملزم کی الیکٹرانک ڈیوائسز اور سفارتی رسائی کے ریکارڈ نے شواہد مہیا کیے کہ وہ حساس معلومات فراہم کر رہا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ جرم قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھا۔ ملزم نے ایک اتحادی ملک یعنی امریکا کے ساتھ ناروے کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی۔

اسی بنا پر عدالت نے قید کی سزا سناتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم پر کوئی نرم رویہ نہیں اپنایا جا سکتا۔

امریکی سفارتخانے نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ناروے کی حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا شکریہ ادا کیا۔

روس اور ایران کی حکومتوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کے مطابق ان دونوں ممالک پر پہلے بھی یورپ میں خفیہ سرگرمیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: روس اور ایران انٹیلی جنس ناروے کی

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی