ناروے؛ امریکی سفارتخانے کے محافظ کو روس اور ایران کیلئے جاسوسی پر قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ناروے کی عدالت نے امریکی سفارتخانے کے سیکیورٹی گارڈ کو روس اور ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیدتے ہوئے 3 سال اور 7 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مقدمہ ناروے کی حالیہ تاریخ میں حساس نوعیت کے سب سے بڑے خفیہ معلوماتی اسکینڈلز میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی سفارت خانے کے گارڈ پر الزام تھا کہ اس نے متعدد خفیہ دستاویزات، سفارتی روٹس، سیکیورٹی پروٹوکول اور سفارتکاروں کی سرگرمیوں کی معلومات روس اور ایران کے خفیہ اداروں تک پہنچائیں۔
جس کے بدلے میں اسے روسی انٹیلی جنس نے 10 ہزار یورو اور ایرانی انٹیلی جنس نے 0.
ناروے کی خفیہ ایجنسی PST نے اس شخص کو اُس وقت گرفتار کیا جب انٹیلی جنس ذرائع سے معلومات ملیں کہ وہ غیر ملکی ایجنٹوں سے رابطے میں ہے۔
ملزم کی الیکٹرانک ڈیوائسز اور سفارتی رسائی کے ریکارڈ نے شواہد مہیا کیے کہ وہ حساس معلومات فراہم کر رہا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ جرم قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھا۔ ملزم نے ایک اتحادی ملک یعنی امریکا کے ساتھ ناروے کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی۔
اسی بنا پر عدالت نے قید کی سزا سناتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم پر کوئی نرم رویہ نہیں اپنایا جا سکتا۔
امریکی سفارتخانے نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ناروے کی حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا شکریہ ادا کیا۔
روس اور ایران کی حکومتوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کے مطابق ان دونوں ممالک پر پہلے بھی یورپ میں خفیہ سرگرمیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روس اور ایران انٹیلی جنس ناروے کی
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔