Jasarat News:
2026-07-24@03:00:23 GMT

موسمیاتی تبدیلیوں کیخلاف سالانہ ایک کھرب ڈالر درکار

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

منیلا (انٹرنیشنل ڈیسک) ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ ایشیا و بحرالکاہل کے خطے میں حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے درکار مالی خلا پر کرنے کے لیے ہر سال ایک کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ ماحولیاتی وموسمیاتی نظاموں کے تحفظ سے روزگار، پیداواری صلاحیت اور مالی استحکام میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ اس بات کا انکشاف ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ایشیا پیسیفک کلائمٹ رپورٹ 2025 ء میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی و موسمیاتی نظاموں میں سرمایہ کاری ضروری ہے کیونکہ ایشیا و بحرالکاہل کے خطے کی مجموعی پیداوار کا تقریبا 75 فیصد حصہ ان شعبوں سے آتا ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر قدرتی وسائل پر انحصار کرتے ہیں اور یہی وسائل تیزی سے زوال پزیر ہیں۔رپورٹ میں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قدرت کے تحفظ کو اپنی معاشی پالیسیوں کا بنیادی حصہ بنائیں۔ رپورٹ کے مطابق ممالک کو اپنی حکمرانی، پالیسی اور ڈیٹا کے ڈھانچے کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ نجی سرمایہ کاری کو ماحول دوست ترقی، تحفظِ فطرت اور اختراعات کی جانب راغب کیا جا سکے۔بینک کے چیف اکانومسٹ البرٹ پارک نے بتایا کہ صحت مند ماحولیاتی نظام ایشیا کی ترقی کی کہانی میں اضافی چیز نہیں بلکہ بنیادی سرمایہ ہیں، قدرت میں سرمایہ کاری کرنے والے والے ممالک دراصل اپنی مسابقت اور مالی استحکام میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری نہایت محدود ہے۔ دنیا کے 270 کھرب ڈالر کے مالیاتی اثاثوں میں سے صرف تقریبا 200 ارب ڈالر سالانہ یعنی ایک فیصد سے بھی کم ماحول دوست منصوبوں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایشیا و بحرالکاہل کے خطہ میں حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے درکار مالی خلا کو پر کرنے کے لیے ہر سال ایک کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔بینک نے زور دیا ہے کہ سرکاری وسائل کو ایسے نظام بنانے پر مرکوز کیا جائے جو نجی سرمایہ کاری کو راغب کریں، اگر حکومتیں حکمرانی، پالیسی اور ڈیٹا میں اصلاحات لائیں تو قدرتی سرمایہ کاری میں نجی شعبے کی شمولیت بڑے پیمانے پر ممکن ہو سکتی ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں سرمایہ کاری کھرب ڈالر کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق