لاہور ہائیکورٹ؛ پی پی 51 سیالکوٹ سے کامیاب ن لیگی امیدوار کے خلاف درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے پی پی 51 سیالکوٹ سے کامیاب ن لیگی امیدوار کے خلاف درخواست خارج کر دی۔
جسٹس سلطان تنویر احمد نے بطور الیکشن ٹربیونل ن لیگی امیدوار کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت کی۔ کامیاب ن لیگی امیدوار میاں ذیشان رفیق کی جانب سے عمران چدھڑ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
الیکشن ٹربیونل نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ کامیاب قرار دیے گئے امیدوار نے 35000 ووٹ حاصل کیے جبکہ درخواست گزار نے 50 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے، ریٹرننگ آفیسر نے ملی بھگت سے نتائج کو تبدیل کیا لہٰذا ٹربیونل الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کامیابی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔
وکیل لیگی امیدوار عمران چدھڑ نے دلائل میں کہا کہ درخواست گزار کے پاس جیت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے، بغیر ثبوتوں کے درخواست پر سماعت کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ استدعا ہے کہ ٹربیونل درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔