لڑکیوں کی تعلیم کیلیے معاشرتی رویوں کو چیلنج کرنا ہوگا، لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کہا ہے کہ ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے معاشرتی رویوں کو چیلنج کرنا ہوگا۔
مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم کے موضوع پر 2روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کہا کہ تعلیم کا موضوع میرے دل کے قریب ہے ۔ پڑھی لکھی خواتین معاشرے میں ترقی کی ضامن ہیں ۔ خواتین کو با اختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے چیلنجز ضرور ہیں مگر موجود مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ نیشنل پالیسی اور بجٹ میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اقدامات کیے جانے چاہییں۔ خواتین کی تعیم کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے کیوں کہ آج کی پڑھی لکھی خاتون معاشرے میں کردار ادا کرے گی۔
لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کا کہنا تھا کہ میں ایسے معاشرے میں پلی بڑھی جہاں صنفی تفریق عام تھی۔ لڑکیوں کی تعلیم کو اکثر نظرانداز کیا جاتا تھا۔ تعلیم نے میری زندگی میں انقلاب برپا کیا اور آج اس مقام پر ہوں جہاں ملک کی خدمت کر رہی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بطور فوجی، ایسے علاقے بھی دیکھے جہاں گرلز اسکول تباہ ہو چکے تھے اور لڑکیوں کو زبردستی تعلیم سے محروم کر دیا گیا تھا۔ ان بہادر لڑکیوں کو بھی دیکھا جو اپنی تعلیم کے حق کے لیے کھڑی ہوئیں اور جدوجہد کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے معاشرتی رویوں کو چیلنج کرنا ہوگا۔ فیصلہ سازی و پالیسی سازی میں لڑکیوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لڑکیوں کی تعلیم میں لڑکیوں کی کی تعلیم کے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔