اسلام آباد:

لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کہا ہے کہ ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے معاشرتی رویوں کو چیلنج کرنا ہوگا۔

مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم کے موضوع پر 2روزہ بین الاقوامی کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کہا کہ تعلیم کا موضوع میرے دل کے قریب ہے ۔ پڑھی لکھی خواتین معاشرے میں ترقی کی ضامن ہیں ۔ خواتین کو با اختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے چیلنجز ضرور ہیں مگر موجود مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ نیشنل پالیسی اور بجٹ میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اقدامات کیے جانے چاہییں۔ خواتین کی تعیم کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے  کیوں کہ آج کی پڑھی لکھی خاتون معاشرے میں کردار ادا کرے گی۔

لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کا کہنا تھا کہ میں  ایسے معاشرے میں پلی بڑھی جہاں صنفی تفریق عام تھی۔ لڑکیوں کی تعلیم کو اکثر نظرانداز کیا جاتا تھا۔ تعلیم نے میری زندگی میں انقلاب برپا کیا اور آج اس مقام پر ہوں جہاں ملک کی خدمت کر رہی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بطور فوجی،  ایسے علاقے بھی دیکھے جہاں گرلز اسکول تباہ ہو چکے تھے اور لڑکیوں کو زبردستی تعلیم سے محروم کر دیا گیا تھا۔ ان بہادر لڑکیوں کو بھی دیکھا جو اپنی تعلیم کے حق کے لیے کھڑی ہوئیں اور جدوجہد کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے معاشرتی رویوں کو چیلنج کرنا ہوگا۔ فیصلہ سازی و پالیسی سازی میں لڑکیوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لڑکیوں کی تعلیم میں لڑکیوں کی کی تعلیم کے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن