تمام اراکین پارلیمنٹ کیلئے اسپیکر آفس 24 گھنٹے کھلا ہے، ترجمان قومی اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
قومی اسمبلی ترجمان نے کہا ہے کہ اسپیکر آفس کے دروازے تمام اراکین پارلیمنٹ کےلیے 24 گھنٹے کھلے ہیں۔
اسلام آباد سے جاری بیان میں ترجمان قومی اسمبلی نے کہا کہ اسپیکر دستیاب نہ ہوں تو بہترین طریقہ یہی ہے کہ اسپیکر آفس کو پیغام دیا جائے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اسپیکر آفس اور ان کا اسٹاف اراکین کا کوئی بھی پیغام ان تک لازمی پہنچاتا ہے۔
ترجمان قومی اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ اسپیکر بعض اوقات حلقے میں اور میٹنگ میں ہوتے ہیں یا کبھی موبائل فون ان کے پاس نہیں ہوتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کا اگر ان سے براہ راست رابط نہ ہو تو اسپیکر آفس سے رابط کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی اسپیکر ا فس کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔