پہلی بار امریکی سرکاری ادارے، فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے نیکوٹین پاؤچ کی بطور محفوظ پروڈکٹ کے مارکیٹنگ کرنے کی منظوری دے دی۔

ایف ڈی اے نے Zyn نیکوٹین پاؤچ پروڈکٹس کا وسیع پیمانے پر سائنسی جائزہ لینے کے بعد مصنوع کی مارکیٹنگ کی منظوری دی۔

ایف ڈی اے نے اپنی منظوری میں ان پاؤچز کو چھوٹے مصنوعی فائبر پاؤچز کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس میں نیکوٹین ہوتی ہے اور جسے صارف کے مسوڑھوں اور ہونٹوں کے درمیان  رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ایف ڈی اے حکام نے کہا کہ Zyn نیکوٹین پاؤچ کی مصنوعات صحت عامہ کے معیار پر پورا اترتی ہیں جس میں خطرات اور فوائد، صارفین کے موجودہ استعمال اور مصنوعات کی تیاری کے لیے متعدد سہولیات اور طریقوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اگرچہ ایف ڈی اے اور Zyn کے حکام بالغوں کو مصنوعات کی مارکیٹنگ میں نیکوٹین پاؤچ کی خطرات سے زیادہ فوائد کی ترغیب دے رہے ہیں تاہم امریکی لنگز ایسوسی ایشن اس فیصلے کی مخالفت کرتی ہے۔

امریکی لنگ ایسوسی ایشن نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے۔ اس نے ایک نیوز ریلیز میں کہا کہ ہمیں انتہائی مایوسی ہوئی ہے کہ ادارے نے ان Zyn نیکوٹین پاؤچز کی اجازت دی ہے، خاص طور پر جبکہ یہ پروڈکٹ ابھی تک غیر قانونی طور پر مارکیٹوں میں موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایف ڈی اے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار