کوئٹہ (آن لائن) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ انیشی ایٹو اپنانے والا پہلا ملک بن گیا ہے پاکستان کے ورلڈ اکنامک فورم اور ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے مشترکہ ڈیجیٹل فارن ڈائیریکٹ انویسٹمنٹ انیشیئٹو کا حصہ بننے کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے ہے پاکستان، ورلڈ اکنامک فورم کے تحت، ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ انیشیئٹو (FDI ) کو اپنانے والا پہلا ملک ہے پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل ایف ڈی آئی پراجیکٹ اہداف کی نشاندہی کے ساتھ ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم کوششیں کر رہا ہے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ یہ منصوبہ ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر، ڈیجیٹائز یشن کو اپنانے ، نئی ڈیجیٹل سرگرمیوں اور برآمدات کی ڈیجیٹل سروسز پر مشتمل ایک فریم ورک ہے جو کہ ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گا جو کہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے لئے ترغیب کا باعث بن سکتے ہیں ملک میں سرمایہ کار دوست ماحول کی فراہمی کی جانب یہ ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے پاکستان جامع ڈیجیٹل معیشت کی طرف گامزن ہے جو پائیدار ترقی اور خوشحالی کی جانب ایک قدم ہے یہ اقدام معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا عکاس ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی معیارات اور انداز سے مطابقت رکھتے ہوئے موثر طور پر آگے بڑھتا جائے گا تو ترقی و خوشحالی پاکستان کے قدم چومے گی پاکستان کو معاشی بحران پر قابو پانے کیلئے عالمی سطح پر اپنی مستعدی اور ترقی پسندی کا تعاثر مظبوط کرنا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر بڑی معاشی طاقتوں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو اور وہ پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے میں سرمایے کا تحفظ محسوس کریں پاکستان کو عالمی معاشی طاقتوں میں اپنا نمایاں مقام بنانے کے لئے سخت محنت کرنا ہوگی حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکال کر محفوظ مقام پر پہنچائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے پاکستان پاکستان کے

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان