صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایرانی آرمی چیف کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایرانی آرمی چیف نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا گیا، اور تجارتی و اقتصادی شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی مفاد میں تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایرانی آرمی چیف نے پاکستان کے غزہ اور لبنان پر موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا موقف ایک دوسرے کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
اس موقع پر، دونوں رہنماؤں نے اپنے ممالک کی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے مزید مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nai Baat
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔