صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایرانی آرمی چیف کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایرانی آرمی چیف نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا گیا، اور تجارتی و اقتصادی شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی مفاد میں تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایرانی آرمی چیف نے پاکستان کے غزہ اور لبنان پر موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا موقف ایک دوسرے کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
اس موقع پر، دونوں رہنماؤں نے اپنے ممالک کی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے مزید مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nai Baat
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔