راولپنڈی:

تالاب سے چار سالہ بچے کی لاش ملنے کے مقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کرلی گئی۔

پولیس کے مطابق بچے کی لاش ظاہری حالت سے 12 سے 15 پرانی ہے جس پر پہلے سے درج اغوا کے مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کی ظاہری حالت دو ماہ تک کھلے آسمان تلے تالاب میں رہنے والی نہیں لگتی، لاش کا پوسٹمارٹم کروا کر نمونے فرانزک تجزیے کے لیے فرانزک سائنس ایجنسی بھجوا دیے گئے ہیں جس سے بچے کی موت کی وجہ اور وقت کا حتمی تعین ہوسکے گا۔

مزید پڑھیں: نومبر میں لاپتا ہونے والے بچے کی لاش دو ماہ بعد تالاب سے مل گئی

ایس پی صدر نبیل کھوکھر کا کہنا ہے کہ جس دن بچہ لاپتہ ہوا علاقے میں موبائل فون سروس بند تھی جس کی وجہ سے جیو فینسنگ نہ ہوسکی، تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر تفتیش کررہے ہیں۔

چار سالہ ارشمان نومبر 2024 میں شادی کی تقریب میں والدہ سے بچھڑ کر لاپتہ ہوگیا تھا اور اس کی لاش تقریباً دو ماہ بعد 18 جنوری کو اسی علاقے کے تالاب سے ملی تھی۔

بچے کا والد کینسر کا مریض تھا اور بیماری کے باعث  بچہ کے اغوا کے 22 دن بعد گمشدگی کا صدمہ دل میں لیے ہی فوت ہوگیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بچے کی لاش تالاب سے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان