بجلی کی ضرورت پوری کرنے کیلیئے مزید 25 آئی پی پیزلگانے کا منصوبہ تیار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
اسلام آباد (آن لائن) حکومت نے ملک میں بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے آئندہ چند سال کے دوران مزید 25آئی پی پیز لگانے کا منصوبہ بنالیا ہے ،رواں سال 2 سولر ، ایک بگاس اور ایک آئی پی پی درآمدی کوئلے پر مبنی منصوبے بنانے کا منصوبہ ہے۔،2026 میں 28.60 میگاواٹ صلاحیت کے 3 آئی پی پیز کی تعمیر مکمل کرنے کا پلان بنایاگیا ہے ۔سرکاری دستاویز کے مطابق آئندہ چند سال کے دوران وفاقی حکومت نے مزید 25 نئے آئی پی پیز لگانے کا پلان بنایا ہے ۔25 نئے آئی پی پیز کی بجلی کی پیداواری صلاحیت 7490 میگاواٹ ہے، دستاویز کے مطابق 2024 میں 916 میگاواٹ کے ہائیڈل اور بگاس کے 2 آئی پی پیز مکمل کر لیے گئے ہیں۔ باقی 6574 میگاواٹ صلاحیت کے 23 آئی پی پیز کی 2034 تک تعمیر مکمل ہوگی ۔رواں سال 440 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے 4 آئی پی پیز مکمل کرنے کا پلان جن میں 2 سولر ، ایک بگاس، ایک آئی پی پی درآمدی کوئلے پر مبنی ہوگا، سرکاری دستاویزکے مطابق 2026 میں 28.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی پی پیز کی ا ئی پی پی کے مطابق کی تعمیر کا پلان
پڑھیں:
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔