اسلام آباد:

بھارتی یوم جمہوریہ کے خلاف کشمیری یوم سیاہ منا رہے ہیں، بھارتی ہائی کمشین کے سامنے آل پارٹیز حریت کانفرنس نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

احتجاج میں کشمیری مرد و خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بازو پر سیاہ پٹیاں اور ہاتھوں میں سیاہ جھنڈے تھام رکھے تھے۔

کشمیری مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت جمہوری نہیں بلکہ ایک فاشسٹ ملک ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تمام انسانی سلوک صلب کر رکھے ہیں، بھارت کا جمہوریت کا راگ الاپنا دوہرے معیار کا ثبوت ہے۔

مظاہرین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اقلیتوں اور کشمیریوں سے زندہ ہونے کا حق بھی چھین رکھا ہے، بھارت سیکولر نہیں بلکہ اس وقت ہندتوا کی سوچ پر چل رہا ہے، بھارت نے خواتین سمیت کشمیری قیادت کو کئی سالوں سے پابند سلاسل رکھا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج کو قتل عام کا لائسنس دے رکھا ہے۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا کہ بھارت دہشت گرد ریاست ہے لہٰذا دنیا بھارتی ریاست پر دہشت گردی کا مقدمہ چلائے، بھارت نے کشمیر نہیں بھارت میں اقلیتوں کو بھی ذبح کیا اسکے باوجود بھارت کو یوم جمہوریہ مناتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارتی وزیر داخلہ کا پاکستان پر دراندازی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارت الزام پاکستان پر لگاتا ہے، بھارت نے کینیڈا اور امریکا میں لوگوں کو قتل کروایا، بین الاقوامی دنیا کے دوہرے معیار اب نہیں چل سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اب جان چکی ہے اپنی آزادی کی جنگیں اپنے خون سے لڑنی پڑتیں ہیں، محض اخلاقی اور سفارتی حمایت سے یہ مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، کشمیر کی آزادی کے لیے ہمیں ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی کشمیر و گلگت بلتستان ڈاکٹر مشتاق نے احتجاج سے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے میں مزید تاخیر نہیں کر سکتا، عرب دنیا کو کشمیری عوام کے حقوق کا بھرپور خیال رکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر مشتاق نے کہا کہ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد عالمی برادری کی فوری توجہ کی مستحق ہے، مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت نے کہا کہ

پڑھیں:

لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی

لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی