Express News:
2025-04-25@11:25:30 GMT

خواتین کاشت کار

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT

زراعت کا پاکستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ہے۔ عوام کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

اقتصادی سروے 2024ء کے مطابق زراعت کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 24 فی صد ہے اور یہ شعبہ 37 فی صد آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے، جس میں خواتین 67.

9 فی صد افرادی قوت کے ساتھ نمایاں ہیں۔ ملکی برآمدات کا بڑا حصہ بھی زراعت کا ہی مرہون منت ہے۔

ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات اور چاول قیمتی زرمبادلہ ذخائر کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ ہمارے ملک کی 65 فی صد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، لیکن ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کو ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ گندم، دالیں اور خوردنی تیل کی درآمدات زرمبادلہ ذخائر پر بوجھ ہیں۔ زرعی پیداوار میں کمی کی ایک اہم وجہ کاشت کاروں، خاص طور پر خواتین کسانوں کو سہولتیں اور مساوی مواقع فراہم نہ کرنا ہے۔

دنیا بھر میں خواتین زراعت سمیت میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایشیائی زرعی نظام میں دیہی خواتین کا کردار بہت اہم ہے اور انھیں زراعت پر انحصار کرنے والی معیشت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ محنت کش خواتین زرعی پیداوار کے حصول میں مردوں کے شانہ بہ شانہ کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، لیکن انھیں مرد کسانوں کے برابر اجرت نہیں ملتی۔

زرعی لیبر فورس سروے کے اعداد و شمار کے مطابق فارم کی سطح پر خواتین 77 فی صد حصہ ڈالتی ہیں اور ہفتہ واری بنیادوں پر فارم میں 50 گھنٹے یا اس سے زائد وقت گزارتی ہیں، لیکن انھیں مردوں کے مقابلے میں 35 سے 40 فی صد کم اجرت دی جاتی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں زراعت سے منسلک خواتین مجموعی افرادی قوت کا 63 فی صد ہیں۔ ایشیائی ریجن میں آج بھی زرعی شعبے میں خواہ وہ شہری ہوں یا دیہی، خواتین کا حصہ زیادہ ہے۔ کم آمدن والے ممالک میں زراعت اور اس سے جڑے شعبے 80 فیصد خواتین کے روزی روٹی کا ذریعہ ہیں، جب کہ متوسط آمدن والے ملکوں میں یہ شرح 40 فی صد ہے اور یہ ممالک دنیا کی کل آبادی کے 85 فی صد پر مشتمل ہیں۔

  پاکستانی خواتین کاشت کار زرعی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ نہ صرف کھیتوں میں محنت مزدوری کرتی ہیں بلکہ گھر کی ذمہ داریاں بھی نبھاتی ہیں۔ فصل کی کاشت، بیج بونے، پانی دینے، کھاد ڈالنے، فصل کاٹنے اور اناج محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کی دیکھ بھال اور ڈیری مصنوعات کی پیداوار اور فروخت جیسے اہم امور بھی انجام دیتی ہیں۔

غذائی تحفظ، دیہی معیشت کے فروغ اور ملکی اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے مرد کسانوں کے ساتھ خواتین کاشت کاروں کو بھی بااختیار بنانا ضروری ہے، لیکن خواتین کاشتکاروں کو وسائل اور سہولتوں کی کمی کا سامنا ہے۔ زراعت کے جدید طریقوں اور ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے باعث ان کی پیداوار محدود رہتی ہے۔ اس لیے دیہی خواتین کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کے ساتھ انہیں جدید زرعی تکنیکوں، مشینری کے استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تربیت فراہم کرنا ضروری ہے۔

زراعت کے ہر شعبے میں شرکت کے باوجود صرف تین فی صد پاکستانی خواتین کاشت کاروں کے پاس اپنی زرعی زمین ہے۔ زمین کی ملکیت میں حصہ نہ ہونے کے باعث ان کے پاس فیصلہ سازی کے مواقع بھی محدود ہوتے ہیں۔ خواتین کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے زمین کی ملکیت، بیج، کھاد، جدید زرعی آلات اور دیگر وسائل کے ساتھ ساتھ خواتین کاشت کاروں کی قرض تک رسائی بڑھنا ضروری ہے۔

منڈیوں اور نقل و حمل تک محدود رسائی خواتین کے لیے مناسب قیمتوں پر اپنی پیداوار فروخت کرنا مشکل بناتی ہے۔ حکومت اور نجی ادارے خواتین کو بلاسود یا آسان شرائط پر قرض، معیاری بیج، کھاد اور دیگر زرعی آلات و وسائل فراہم کریں تاکہ وہ اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔ دیہی خواتین کے لیے مخصوص زرعی مارکیٹس قائم کی جائیں، جہاں وہ اپنی پیداوار کو بہتر قیمت پر فروخت کر سکیں۔ مال مویشیوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر بھی کسان عورتوں کا حصہ ہونا چاہیے۔ خواتین کاشت کاروں کی منڈیوں تک رسائی کو آسان بناکر، مارکیٹنگ اور ویلیو ایڈیشن کی تربیت فراہم کر کے ان کی آمدن کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

مساوی اور جامع زرعی منظر نامے کے لیے بینکس زرعی سروسز مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کاشت کاروں کو بھی معلومات اور مشاورتی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ فیلڈ ڈویلپمنٹ آفیسر خواتین کسانوں سے مستقل رابطے میں رہتی ہیں اور انھیں معیاری و تصدیق شدہ بیج اور کھاد و ادویہ کے بارے مشورے دیتی ہیں، جس کا مقصد خواتین کاشت کاروں کی ان کی مکمل صلاحیت کے مطابق ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ لائیو اسٹاک مینجمنٹ اور ڈیری پروڈکٹس میں سرگرم خواتین کو صحت مند جانوروں اور مویشیوں کی معیاری خوراک کے حوالے سے مفید معلومات فراہم کر کے بااختیار جا رہا ہے۔

دیہی خواتین کا کردار زراعت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ وہ نہ صرف فصلوں کی کاشت اور دیکھ بھال میں حصہ لیتی ہیں بلکہ کمیونیٹیز کی ترقی اور صنفی مساوات کے لیے بھی سرگرم عمل ہیں۔ اگر ان کے مسائل کو سمجھ کر حل کیا جائے اور انھیں تعلیم، مالی وسائل اور جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے، تو وہ زراعت کے شعبے میں انقلاب لاسکتی ہیں۔ خواتین کسانوں کو ان کے حقوق دلانے اور معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے سے نہ صرف ان کی ذاتی زندگیوں میں بہتری آئے گی، بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت بھی ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہوگی۔

ایسا ماحول جہاں خواتین کاشتکار خود مختار ہوں، وہ ایک جامع اور پائیدار زرعی مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے، جو ملک کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومت اور نجی اداروں کو چاہیے کہ خواتین کاشت کاروں کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں، تاکہ نہ صرف ان کی زندگیوں میں نمایاں بہتری آئے بلکہ ایک جامع اور خوش حال زرعی مستقبل کو بھی فروغ ملے گا۔

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خواتین کاشت کاروں خواتین کسانوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا فراہم کر کے مطابق کاروں کو کرنے کے کے لیے

پڑھیں:

موسمیاتی تبدیلی بھی صنفی تشدد میں اضافہ کی وجہ، یو این رپورٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 23 اپریل 2025ء) موسمی شدت، نقل مکانی، غذائی قلت اور معاشی عدم استحکام سے صنفی بنیاد پر تشدد کے مسئلے کی شدت اور پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، رواں صدی کے اختتام پر گھریلو تشدد کے 10 فیصد واقعات موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا نتیجہ ہوں گے۔

خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کے 'سپاٹ لائٹ اقدام' کی جاری کردہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایسے سماجی و معاشی تناؤ میں اضافہ کر رہی ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس تناؤ سے ایسے علاقے کہیں زیادہ متاثر ہوتے ہیں جہاں خواتین کو پہلے ہی شدید عدم مساوات اور تشدد کا سامنا رہتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی حدت میں ہر ڈگری سیلسیئس کے اضافے سے خواتین پر ان کے شوہروں یا مرد ساتھیوں کے تشدد میں 4.7 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

حدت میں دو ڈگری اضافے کا مطلب یہ ہے کہ 2090 تک مزید چار کروڑ خواتین اور لڑکیوں کو تشدد کا سامنا ہو گا۔

اسی طرح 3.5 ڈگری اضافے کے نتیجے میں یہ تعداد دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ جائے گی۔

'سپاٹ لائٹ اقدام' یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی شراکت ہے جو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہر طرح کے تشدد کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔

UNIC Mexico/Eloísa Farrera صنفی تشدد کی وبا

سپاٹ لائٹ اقدام کے تحت کی جانے والی تحقیق میں موسمی شدت کے واقعات اور صنفی بنیاد پر تشدد میں واضح تعلق سامنے آیا ہے۔

2023 میں 9 کروڑ 31 لاکھ لوگوں کو موسمیاتی حوادث اور زلزلوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس عرصہ میں تقریباً 42 کروڑ 30 لاکھ خواتین اپنے شوہروں یا مرد ساتھیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنیں۔

ایک جائزے کے مطابق، شدید گرمی کے ادوار میں خواتین کے قتل کے واقعات میں 28 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، سیلاب، خشک سالی یا ارضی انحطاط جیسے حالات کے بعد لڑکیوں کی نوعمری کی شادی، انسانی سمگلنگ اور ان کے جنسی استحصال کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد عالمگیر وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دنیا میں ایک ارب سے زیادہ یا ایک تہائی خواتین کو اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی جسمانی، جنسی یا نفسیاتی تشدد کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے۔ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ تقریباً سات فیصد خواتین ہی تشدد کے واقعات پر پولیس یا طبی خدمات مہیا کرنے والوں کو اس کی اطلاع دیتی ہیں۔

حدت اور تشدد کا باہمی تعلق

چھوٹے کاشت کار گھرانوں اور غیررسمی شہری آبادیوں میں رہنے والی غریب خواتین کو تشدد کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ قدیمی مقامی، جسمانی معذور، معمر یا ایل جی بی ٹی کیو آئی + برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے بھی یہ خطرات زیادہ ہوتے ہیں جبکہ انہیں خدمات، پناہ یا تحفظ تک محدود رسائی ہوتی ہے۔

اندازوں کے مطابق، عالمی درجہ حرارت میں 4 ڈگری سیلسیئس اضافے کی صورت میں 2060 تک ذیلی۔صحارا افریقہ کے ممالک میں شوہروں یا مرد ساتھیوں کے تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کی تعداد 140 ملین تک پہنچ جائے گی جو 2015 میں 48 ملین تھی۔ تاہم، اگر عالمی حدت میں اضافے کی شرح 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رہے تو اس عرصہ میں تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کی تعداد میں 10 فیصد تک کمی آ جائے گی۔

رپورٹ میں ماحولیاتی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو لاحق خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ زمین کے تباہ کن استعمال یا کان کنی کی صنعتوں کے اقدامات پر آواز اٹھانے والے ایسے بہت سے لوگوں کو ہراسانی، بدنامی، جسمانی حملوں یا اس سے بھی بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

© WFP/Mehedi Rahman اقوام متحدہ کی سفارشات

یہ مسئلہ ہنگامی توجہ کا متقاضی ہے لیکن موسمیاتی مقاصد کے لیے دی جانے والی ترقیاتی امداد میں صنفی مساوات کے لیے صرف 0.04 فیصد وسائل ہی مختص کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کمی اس حقیقت کے ادراک میں ناکامی کا ثبوت ہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد (جی بی وی) کی شرح سے موسمیاتی استحکام اور انصاف کا تعین بھی ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام کے اقدامات کو مقامی سطح پر موسمیاتی حکمت عملی کی تشکیل سے لے کر عالمی سطح پر مالی وسائل کی فراہمی کے طریقہ ہائے کار تک، ہر طرح کی موسمیاتی پالیسی میں شامل کرنا ہو گا۔

موثر موسمیاتی اقدامات میں خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ، مساوات اور ان کے قائدانہ کردار کو ترجیح دینا ہو گی۔ ان کے خلاف تشدد کا خاتمہ انسانی حقوق کا لازمہ ہی نہیں بلکہ منصفانہ، پائیدار اور موسمیاتی اعتبار سے مستحکم مستقبل کے لیے بھی اس کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شکی مزاج شریکِ حیات کے ساتھ زندگی عذاب
  • شہریوں کی ایران اور عراق اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی گئی
  • کم عمری کی شادی حاملہ خواتین میں موت کا بڑا سبب، ڈبلیو ایچ او
  • خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ
  • پاکستان کسان اتحاد کا گندم کی کاشت میں بہت بڑی کمی لانے کا اعلان
  • کسان اتحاد کا آئندہ سال گندم کی کاشت میں بڑی کمی لانے کا اعلان
  • افغانستان!خواتین کے چائے،کافی اور قہوہ خانوں کی دلفریبیاں
  • صوبہ پنجاب میں گندم کی خریداری کےلیے جامع پلان تیار
  • انسانیت کے نام پر
  • موسمیاتی تبدیلی بھی صنفی تشدد میں اضافہ کی وجہ، یو این رپورٹ