ملتان، جماعت اسلامی کے زیراہتمام مہنگی بجلی اور آئی پی پیز مافیا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی ملتان ڈاکٹر اشرف علی عتیق نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مافیاز کو نواز رہی ہے، آئی پی پیز سے معاہدوں کے نتیجے میں ایک ہزار ارب کا فائدہ ہوا، اس رقم سے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کر رہے ہیں، عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، تنخواہ داروں پر ٹیکسوں کا پہاڑ لاد دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان ڈاکٹر اشرف علی عتیق نے کہا کہ حکومت نے آئی پی پی سے معاہدے کر کے ہزاروں ارب بچائے، عوام کو بجلی کی مد میں ریلیف دینا ہوگا، جماعت اسلامی احتجاجی تحریک ری لانچ کر رہی ہے، آئی پی پیز سے معاہدے عوامی جدوجہد کا نتیجہ ہے، اس کا فائدہ بھی عوام کو ہونا چاہیے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی ضلع ملتان کے زیراہتمام ملتان پریس کلب کے سامنے مہنگی بجلی اور آئی پی پیز مافیا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر خالد رشید، ڈاکٹر عبداللہ، آصف اخوانی، قطب جمیل اور دیگر ذمہ دران موجود تھے۔
ڈاکٹر اشرف علی عتیق نے کہا کہ حکومت مافیاز کو نواز رہی ہے، آئی پی پیز سے معاہدوں کے نتیجے میں ایک ہزار ارب کا فائدہ ہوا، اس رقم سے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کر رہے ہیں، عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، تنخواہ داروں پر ٹیکسوں کا پہاڑ لاد دیا گیا، کسان رو رہا ہے، بجلی بل بم بن چکے ہیں، حکومت کے مہنگائی میں کمی کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں، جماعت اسلامی کے علاو ہ عوامی مسائل کسی پارٹی کی ترجیح نہیں، حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت میں پرامن مزاحمتی تحریک کے ذریعے عوام کو اس کا حق دلوائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی آئی پی پیز آئی پی پی عوام کو
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔