ڈی آئی خان جانیوالی گاڑی پر فائرنگ، 4 لیویز اہلکاروں سمیت 5 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
اسٹنٹ کمشنر کاریزات کے مطابق لیویز اہلکار نجی ڈرائیور کے ہمراہ چوری کے ٹرک کی برآمدگی کے لیے جا رہے تھے کہ اس دوران ان پر فائرنگ کی گئی جس کے سبب گاڑی میں آگ بھی لگ گئی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں درابن جانے والی خانوزئی لیویز کی نجی گاڑی پر فائرنگ سے 4 لیویز اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اسٹنٹ کمشنر کاریزات کے مطابق لیویز اہلکار نجی ڈرائیور کے ہمراہ چوری کے ٹرک کی برآمدگی کے لیے جا رہے تھے کہ اس دوران ان پر فائرنگ کی گئی جس کے سبب گاڑی میں آگ بھی لگ گئی۔ اے سی کاریزات کا کہنا تھا کہ جاں بحق لیویز اہلکاروں کی میتیں درابند اسپتال منتقل کر دی گئیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ واضح رہے کہ چوری شدہ ٹرک 13 جنوری 2025ء کو خانوزئی، پشین سے چوری ہوا تھا اور 27 جنوری کو اس کی ایف آئی آر درج کی گئی جبکہ 28 جنوری کو ڈی آئی خان کے ایس ایچ او نے خانوزئی کے ایس ایچ او کو اطلاع دی۔
یکم فروری کو چار اہلکار سفید گاڑی میں ڈی آئی خان روانہ ہوئے کہ ڈی آئی خان کے علاقے درابن میں فائرنگ سے اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ ڈی ایس پی درابن کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد کے حملے میں نور احمد نائب رسالدار، رشید زمان سپاہی، داؤد خان سپاہی اور بلال احمد سپاہی جاں بحق ہوئے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق گاڑی پر پہلے فائرنگ کی گئی وار اس کے بعد آئی ای ڈی دھماکا کیا گیا، گاڑی میں آگ لگنے سے تمام سوار جل گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لیویز اہلکار پر فائرنگ گاڑی میں کی گئی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔