ٹرمپ کا غزہ پر قبضے کا اعلان، اسرائیلی وزیر دفاع نے فوج کو تیار رہنے کا حکم دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
اسرائیل کے وزیر دفاع نے امریکی صدر کے غزہ پر قبضے کے اعلان کے بعد فوج کو تیار رہنے کے احکامات جاری کردیے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے جمعرات کے روز فوج کو تیار رہنے کے احکامات جاری کیے جس میں کہا گیا ہےکہ اسرائیلی فوج غزہ کے رہائشیوں کو رضا کارانہ طور پر علاقہ چھوڑنے کی منصوبہ بندی کے لیے تیار رہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ احکامات امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ پر قبضے کے اعلان کے بعد جاری کیے تاہم ٹرمپ کو اپنے اس اعلان پر عالمی برادری کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اسرائیلی وزیردفاع نے کہا کہ میں صدر ٹرمپ کے دلیرانہ منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہوں، غزہ کے رہائشیوں کو آزادی سے ہجرت کی اجازت ہونی چاہیے جیسا کہ دنیا بھر میں قوانین ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع سے سوال کیا گیا کہ فلسطینیوں کو کون لے گا؟ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جنہوں نے غزہ میں اسرائیل کے فوجی آپریشن کی مخالفت کی، جیسے اسپین، آئرلینڈ، ناروے اور دیگر ممالک، جنہوں نے اسرائیل پر فوجی آپریشن کو لے کر جھوٹے الزامات عائد کیے لہٰذا اب انہیں قانونی طور پر غزہ کے رہائشیوں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینی چاہیے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم غزہ کے شہریوں کو بھیجنے کے لیے زمینی راستے سمیت جہاز اور سمندری راستے سے خصوصی انتظامات کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
واضح رہےکہ امریکی صدر کے غزہ پر قبضے کے اعلان کے بعد کئی ممالک نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جس پر امریکی حکام کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر دفاع نے غزہ کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔