غیررجسٹرڈموبائل فون بلاک، صارفین کو ہدایت نامہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک : پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیررجسٹرڈموبائل فون بلاک کرتے ہوئے تمام صارفین کوفوری موبائل فون ٹیکس ادائیگی کے ذریعے رجسٹرڈ کرانے کی ہدایت کردی ۔
پی ٹی اے نےصارفین کےزیراستعمال بڑی تعدادمیں غیررجسٹرڈموبائل فون بلاک کردیئے، ساتھ ہی تمام صارفین کوفوری موبائل فون ٹیکس ادائیگی کے ذریعے رجسٹرڈ کرانے کی ہدایت کردی، پی ٹی اے نےموبائل ڈیوائس کی خریداری کےضمن میں بھی صارفین کیلئےہدایت نامہ جاری کردیا ۔
پرائیویٹ میڈیکل کالجزمیں داخلے ؛ پہلی سلیکشن فہرست جاری
ہدایت نامہ کے مطابق موبائل فون خریدتے وقت یقینی بنائیں کہ تمام مطلوبہ ٹیکس ادا کئے جا چکے ہیں، تمام صارفین موبائل فون ٹیکس کی ادائیگی کاعمل مستند ذرائع سے یقینی بنائیں، موبائل فون کاڈی آئی آر بی ایس کے ذریعے رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ حکام پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ موبائل ڈیوائس کے60 دن کے اندرتمام لاگوٹیکس اور ڈیوٹیز ادا کرنا لازم ہیں، صارفین تمام مطلوبہ ٹیکس صرف مجازبینکنگ چینلز کے ذریعے بذات خود جمع کرائیں، ٹیکس کی ادائیگی میں معاونت کادعویٰ کرنے والے کے جھانسے میں ہرگز نہ آئیں، موبائل فون پر ٹیکس ایف بی آر کے مقرر کردہ ہیں، پی ٹی اےکا کردار صرف رجسٹریشن کرنا ہے۔
پی ٹی آئی کا لاہور جلسے کی اجازت نہ ملنے پر پلان بی سامنے آگیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: موبائل فون کے ذریعے پی ٹی اے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔