محمود خان اچکزئی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو WhatsAppFacebookTwitter 0 14 February, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )پشتونخواخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی، جس میں دونوں سیاسی رہنماں نے ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی۔تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد ہوئی۔

اس موقع پر محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں سیاسی رہنماں نے ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی۔مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرنے والے وفد میں اخونزادہ حسین اور ریاض احمد شامل تھے۔ اس کے علاوہ ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، محمد اسلم غوری، سینیٹر کامران مرتضی، مولانا اسعد محمود، مولانا اسجد محمود شریک تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان سے ملاقات محمود خان اچکزئی کی

پڑھیں:

نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے میر پور جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ خیراتی مینڈیٹ والی جماعت ہے، اس کے منہ سے الیکشن اور ووٹوں کی باتیں اچھی نہیں لگتیں، میاں نواز شریف صاحب یہ بتائیں کہ ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نواز شریف صاحب، سیاست ہوتی رہے گی، سندھ اور کشمیر کی سرزمین و عوام کو طنز و مزاح کا موضوع مت بنائیں، سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کسی بھی صوبے، شہر یا علاقے کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں، سابق وزیر اعظم  کا یہ رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ آپ کے بیان نے لاکھوں پاکستانیوں، کشمیر اور سندھ کے عوام جذبات کو مجروح کیا ہے،کسی بھی شہر یا ضلع کا نام سیاسی تقریر میں مذاق یا تقابل کے انداز میں استعمال کرنا شعوری پسماندگی ہے، کشمیر پاکستان کی قومی جدوجہد کی علامت ہے ، سندھ کا ہر شہر بھی اتنا ہی محترم اور عزیز ہے۔

مزید پڑھیں

آزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب کشمیر کے وارث آگئے ہیں، مریم نواز

بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگرچہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ "تلخی نہیں ہونی چاہیے"، لیکن ان کے اپنے الفاظ ہی سیاسی تلخی اور غیر ضروری تقسیم کا باعث بن رہے ہیں، قومی رہنماؤں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو مختلف علاقوں کے عوام میں احساسِ محرومی یا تفریق کو جنم دیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ قومی یکجہتی، باہمی احترام اور سنجیدہ سیاسی رویوں کا متقاضی ہے۔ سندھ اور کشمیر کے عوام اپنی سرزمین و شناخت پر فخر کرتے ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ انہیں سیاسی طنز کا نشانہ بنائے، جو سیاست تقسیم اور تمسخر پر مبنی ہو، وہ قومی مفاد کے بجائے سیاسی نقصان کا سبب بنتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزرا کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اہم ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت