وفاقی وزیرداخلہ اور گورنر پنجاب کی ملاقات، سیاسی و ملکی صورتحال پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-08-27
لاہور (اے پی پی) وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی اور ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اتوار کو وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق گورنر پنجاب نے جنوبی افریقا کے خلاف ٹی 20 سیریز جیتنے پر محسن نقوی کو مبارکباد دی۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا کہ قومی ٹیم نے جنوبی افریقا کے خلاف ٹی 20 سیریز میں عمدہ کرکٹ کھیلی اور سیریز اپنے نام کی۔ ملاقات میں پیپلز پارٹی پنجاب کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ملکر کام کرنا ہوگا۔اس موقع پروفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی خاطر سب کو مثبت سوچ کے ساتھ ایک ہونا ہے۔ اتحاد و اتفاق کی ضرورت جتنی آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ قومی و عسکری قیادت نے اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ہی ہر محاذ پر کامیابیاں سمیٹی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گورنر پنجاب
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔