آزادیِ اظہار اور حقِ گوئی جمہوری معاشروں کی پہچان اور بنیاد ہیں، کامران ٹیسوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
اپنے پیغام میں گورنر سندھ نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ناگزیر ہے تاکہ آزادیِ صحافت کو محفوظ بنایا جا سکے، سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس ایکٹ کے تحت قائم کمیشن کو مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے ’’صحافیوں کے خلاف جرائم سے استثنیٰ کے خاتمے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آزادیِ اظہار اور حقِ گوئی جمہوری معاشروں کی پہچان اور بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو خوف و دباؤ سے آزاد ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ گورنر سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں صحافیوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کو ہر ممکن یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ناگزیر ہے تاکہ آزادیِ صحافت کو محفوظ بنایا جا سکے۔
کامران خان ٹیسوری نے مزید کہا کہ سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس ایکٹ کے تحت قائم کمیشن کو مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیئے، جبکہ صحافیوں پر تشدد یا ہراسانی کے واقعات کی شفاف تحقیقات اور فوری انصاف یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے میڈیا اداروں، سول سوسائٹی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر مؤثر اقدامات کریں۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر کہا کہ آئیے عزم کریں کہ پاکستان میں آزاد اور ذمہ دار صحافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گورنر سندھ کہ صحافیوں صحافیوں کے کہا کہ
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔