اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے نکالے جانے والے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی نشست نہیں چھوڑیں گے اور پارٹی پر قبضے کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے  پارٹی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے شیر افضل نے کہاکہ پارٹی کے بانی نے کچھ اراکین کو نکالنے اور زین قریشی کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی کیونکہ وہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے ہیں اور ان کی پارٹی کے لیے قربانیاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ جیسے مجھے نکالا گیا ہے، اس کے بعد پی ٹی آئی میں کسی کا بھی مستقبل محفوظ نہیں ہے، کسی کو بھی کھسر پھسر کے ذریعے پارٹی سے نکالا جا سکتا ہے، پارٹی سے نکالنے کا کوئی معقول جواز ہونا چاہیے، مگر مجھے کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

شیر افضل کاکہنا تھا کہ   میں مسلسل چار دن سے پارٹی کے فیصلے کے خلاف آواز بلند کر رہا ہوں لیکن نکالے جانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی جارہی ہے،بانی کو غلط مشورے دیے جا رہے ہیں اور کچھ لوگ پارٹی پر قبضہ کرنے کے درپے ہیں۔

انہوں نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بلاک یا گروپ کی تشکیل نہیں کریں گے بلکہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہیں گے، جب تک زندہ ہوں، پارٹی پر قبضے کے خواب کو چکنا چور کر دوں گا، سمجھدار لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ پارٹی میں اصل میں کیا ہو رہا ہے۔

پارٹی کی کارکردگی پر سوالات

انہوں نے پارٹی کی حالیہ کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ “ہماری کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے، ہم بس ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ہمارا بنیادی مقصد عوام کو شعور دینا اور مینڈیٹ کی بحالی ہونا چاہیے، مگر ہم باہمی اختلافات میں الجھ چکے ہیں۔”

قومی اسمبلی کی نشست نہ چھوڑنے کا اعلان

پارٹی سے نکالے جانے کے باوجود، انہوں نے اپنی قومی اسمبلی کی نشست نہ چھوڑنے کا اعلان کیا اور کہا کہ “یہ نشست چھوڑنے کا فیصلہ وہی کرے گا جس نے مجھے منتخب کیا تھا۔ جب وہ مجھے بلائے گا اور کہے گا، تب میں فیصلہ کروں گا، مگر کھسر پھسر کی بنیاد پر استعفیٰ نہیں دوں گا۔”

نتائج اور اثرات

شیر افضل مروت کے سخت بیانات نے پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کو مزید واضح کر دیا ہے، اور ان کے انکشافات سے پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے تنازعات کا عندیہ مل رہا ہے۔ ان کا مؤقف پارٹی کے دیگر ناراض اراکین کے لیے بھی ایک نیا بیانیہ تشکیل دے سکتا ہے، جس کے ممکنہ اثرات پی ٹی آئی کی داخلی سیاست پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی کی نشست چھوڑنے کا پی ٹی آئی شیر افضل انہوں نے پارٹی کے پارٹی پر کہا کہ

پڑھیں:

پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔

پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔

 ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن